اَللّٰھُمَ اِنِّیْ وَقَفْتُ عَلٰی بَابِ ....
اے اللہ ! میں اس دروازے پر کھڑا ہوں .....
Najaf
اَللّٰھُمَ اِنِّیْ وَقَفْتُ عَلٰی بَابِ ....
اے اللہ ! میں اس دروازے پر کھڑا ہوں .....
اَلسَّلَامُ عَلٰی مُحَمَّدٍ رَسُوْلِ ﷲِ، خَاتَمِ النَّبِیِّیْنَ
سلام ہو حضرت محمدؐ پر جو خدا کے رسولؐ، نبیوں کے خاتم،
وَسَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ، وَصَفْوَۃِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ
پیغمبروں کے سردار، منتخبِ پروردگار عالم ہیں
ٲَمِیْنِ ﷲِ عَلٰی وَحْیِہٖ وَعَزَائِمِ ٲَمْرِہٖ
اس کی وحی اور محکم امر کے امانت دار ہیں
وَالْخَاتِمِ لِمَا سَبَقَ، وَالْفَاتِحِ لِمَا اسْتُقْبِلَ
سابقہ علوم کو کامل کرنے والے آئندہ علوم کے دروازے کھولنے والے
وَالْمُھَیْمِنِ عَلٰی ذٰلِكَ كُلِّہٖ
اور ان سب کے محافظ و نگہبان ہیں
وَرَحْمَۃُ ﷲِ وَبَرَكَاتُہٗ وَصَلَوَاتُہٗ وَتَحِیَّاتُہٗ
خدا کی رحمت ہو ان پر اور اس کی برکتیں اس کے درود اور سلام ہوں
اَلسَّلَامُ عَلٰی ٲَنْبِیَاءِ ﷲِ وَرُسُلِہٖ
سلام ہو خدا کے نبیوں اور اس کے رسولوں پر
وَمَلَائِكَتِہِ الْمُقَرَّبِیْنَ وَعِبَادِہِ الصَّالِحِیْنَ
اور اس کے مقرب فرشتوں اور اس کے نیک بندوں پر
اَلسَّلَامُ عَلَیْكَ یَا ٲَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَسَیِّدَ الْوَصِیِّیْنَ
سلام ہو آپ پر اے مومنوں کے امیر، اوصیاء کے سردار
وَوَارِثَ عِلْمِ النَّبِیِّیْنَ، وَوَلِیَّ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ
نبیوں کے علم کے وارث، جہانوں کے رب کے ولی
وَمَوْلَایَ وَمَوْلَی الْمُؤْمِنِیْنَ وَرَحْمَۃُ ﷲِ وَبَرَكَاتُہٗ۔
اور میرے اور سب مومنوں کے مولا، سلام ہو خدا کی رحمت اور برکتیں
اَلسَّلَامُ عَلَیْكَ یَا مَوْلَایَ یَا ٲَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ
سلام ہو آپ پر اے میرے مولا اے مومنوں کے امیر
یَا ٲَمِیْنَ ﷲِ فِیْ ٲَرْضِہٖ وَسَفِیْرَہٗ فِیْ خَلْقِہٖ
اے خدا کی زمین میں اس کے امین، اس کی مخلوق میں اس کے سفیر
وَحُجَّتَہُ الْبَالِغَۃَ عَلٰی عِبَادِہٖ
اور اس کے بندوں پر اس کی کامل تر حجت
اَلسَّلَامُ عَلَیْكَ یَا دِیْنَ ﷲِ الْقَوِیْمَ، وَصِرَاطَہُ الْمُسْتَقِیْمَ
آپ پر سلام ہو اے خدا کے دین محکم اور اس کے راہ راست
اَلسَّلَامُ عَلَیْكَ ٲَیُّھَا النَّبَٲُ الْعَظِیْمُ
آپ پر سلام ہو اے خبر عظیم
الَّذِیْ ھُمْ فِیْہِ مُخْتَلِفُوْنَ وَعَنْہُ یُسْئَلُوْنَ۔
جس میں لوگوں نے اختلاف کیا اور اس کے لئے جواب دہ ہیں
اَلسَّلَامُ عَلَیْكَ یَا ٲَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ
آپ پر سلام ہو اے مومنوں کے امیرؑ
اٰمَنْتَ بِاللّٰهِ وَھُمْ مُشْرِكُوْنَ
کہ آپ خدا پر ایمان لائے اور وہ مشرک ہو گئے
وَصَدَّقْتَ بِالْحَقِّ وَھُمْ مُكَذِّبُوْنَ
آپ نے حق کی تصدیق فرمائی اور انہوں نے جھٹلایا
وَجَاھَدْتَ فِی ﷲِ وَھُمْ مُحْجِمُوْنَ
آپ نے جہاد کیا اور وہ سر چھپاتے رہے
وَعَبَدْتَ ﷲَ مُخْلِصًا لَہُ الدِّیْنَ
اور آپ نے خدا کے دین میں خالص ہو کر اس کی عبادت کی
صَابِرًا مُحْتَسِبًا حَتّٰی ٲَتَاكَ الْیَقِیْنُ
خیر خواہ اور صابر رہ کر، حتیٰ کہ آپ کی شہادت ہو گئی
ٲَلَا لَعْنَۃُ ﷲِ عَلَی الظَّالِمِیْنَ
آگاہ رہو کہ ظالموں پر خدا کی لعنت ہے
اَلسَّلَامُ عَلَیْكَ یَا سَیِّدَ الْمُسْلِمِیْنَ
آپ پر سلام ہو اے مسلمانوں کے سردار،
وَیَعْسُوْبَ الْمُؤْمِنِیْنَ، وَاِمَامَ الْمُتَّقِیْنَ
مؤونوں کے رہبر و پیشوا، پرہیزگاروں کے امام
وَقَائِدَ الْغُرِّ الْمُحَجَّلِیْنَ، وَرَحْمَۃُ ﷲِ وَبَرَكَاتُہٗ۔
نورانی چہرے والوں کے پیشرو، خدا کی رحمت ہو اور اس کی برکتیں
ٲَشْھَدُ ٲَنَّكَ ٲَخُوْ رَسُوْلِ ﷲِ وَوَصِیُّہٗ، وَوَارِثُ عِلْمِہٖ
میں گواہ ہوں بے شک آپ رسولؐ خدا کے برادر، ان کے وصی، ان کے علوم کے وارث
وَٲَمِیْنُہٗ عَلٰی شَرْعِہٖ، وَخَلِیْفَتُہٗ فِیْ ٲُمَّتِہٖ
ان کی شریعت کے امانت دار، ان کی امت میں ان کے جانشین
وَٲَوَّلُ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَصَدَّقَ بِمَا ٲُنْزِلَ عَلٰی نَبِیِّہٖ
اور وہ پہلے فرد ہیں کہ خدا پر ایمان لائے اور جو کچھ اس کے نبیؐ پر نازل ہوا اس کی تصدیق کی
وَٲَشْھَدُ ٲَنَّہٗ قَدْ بَلَّغَ عَنِ ﷲِ مَا ٲَنْزَلَہٗ فِیْكَ
میں گواہ ہوں کہ آنحضرتؐ نے پہنچایا جو کچھ آپ کے حق میں اترا
فَصَدَعَ بِٲَمْرِہٖ
پس حکم خدا میں سعی کی
وَٲَوْجَبَ عَلٰی ٲُمَّتِہٖ فَرْضَ طَاعَتِكَ وَوِلَایَتِكَ
اور اپنی امت پر آپؑ کی اطاعت واجب کی، آپؑ کی ولایت فرض کر دی
وَعَقَدَ عَلَیْھِمُ الْبَیْعَۃَ لَكَ
آپ کیلئے ان لوگوں سے بیعت لی
وَجَعَلَكَ ٲَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ ٲَنْفُسِھِمْ
اور آپ کو ان کے نفسوں سے زیادہ بااختیار بنایا
كَمَا جَعَلَہُ ﷲُ كَذٰلِكَ
جیسا کہ خدا نے آنحضرتؐ کو با اختیار بنایا
ثُمَّ ٲَشْھَدَ ﷲَ تَعَالٰی عَلَیْھِمْ
پھر خدا کو ان پر گواہ قرار دیا
فَقَالَ: ٲَلَسْتُ قَدْ بَلَّغْتُ؟ فَقَالُوْا: اَللّٰھُمَّ بَلٰی
اور فرمایا، آیا میں نے تبلیغ نہیں کی؟ انہوں نے کہا باخدا کی ہے
فَقَالَ: اَللّٰھُمَّ اشْھَدْ
تب فرمایا، اے اللہ گواہ رہنا
وَكَفٰی بِكَ شَھِیْدًا وَحَاكِمًا بَیْنَ الْعِبَادِ۔
اور تو گواہی کے لئے کافی ہے اور بندوں میں حکم کرنے والا ہے
فَلَعَنَ ﷲُ جَاحِدَ وِلَایَتِكَ بَعْدَ الْاِقْرَارِ
پس خدا کی لعنت اس پر جو اقرار کے بعد تیری ولایت کا انکار کرے
وَنَاكِثَ عَھْدِكَ بَعْدَ الْمِیْثَاقِ
اور تجھ سے عہد باندھنے کے بعد توڑے
وَٲَشْھَدُ ٲَنَّكَ وَفَیْتَ بِعَھْدِ ﷲِ تَعَالٰی
اور میں گواہ ہوں بے شک آپ نے خدا سے کیا ہوا عہد پورا کیا
وَٲَنَّ ﷲَ تَعَالٰی مُوْفٍ لَكَ بِعَھْدِہٖ
اور یقیناً خدا بھی آپ سے کیا ہوا عہد پورا کرے گا
وَمَنْ ٲَوْفٰی بِمَا عَاھَدَ عَلَیْہِ ﷲَ
اور جو خدا سے کیے ہوئے عہد کو پورا کرے
فَسَیُؤْتِیْہِ ٲَجْرًا عَظِیْمًا
تو وہ اسے بہت بڑا اجر دے گا
وَٲَشْھَدُ ٲَنَّكَ ٲَمِیْرُ الْمُؤْمِنِیْنَ الْحَقُّ
میں گواہ ہوں کہ آپ مومنوں کے حقیقی امیر ہیں
الَّذِیْ نَطَقَ بِوِلَایَتِكَ التَّنْزِیْلُ
جن کی ولایت قرآن نے بتائی
وَٲَخَذَ لَكَ الْعَھْدَ عَلَی الْأُمَّۃِ بِذٰلِكَ الرَّسُوْلُ
اور رسولؐ نے اس کا عہد لے کر حجت تمام کر دی ہے
وَٲَشْھَدُ ٲَنَّكَ وَعَمَّكَ وَٲَخَاكَ الَّذِیْنَ تَاجَرْتُمُ ﷲَ بِنُفُوْسِكُمْ
میں گواہ ہوں کہ آپ، آپ کے چچا حمزہؑ اور آپ کے بھائی جعفرؑ نے خدا سے اپنی جانوں کا سودا کیا
فَٲَنْزَلَ ﷲُ فِیْكُمْ: اِنَّ ﷲَ اشْتَرٰی مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ
تو اس نے آپ کے لئے فرمایا، بے شک خدا نے مومنوں سے خرید لئے
ٲَنْفُسَھُمْ وَٲَمْوَالَھُمْ بِٲَنَّ لَھُمُ الْجَنَّۃَ
ان کی جانیں اور ان کے مال، ان کو جنت دے کر
یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ ﷲِ فَیَقْتُلُوْنَ وَیُقْتَلُوْنَ
کہ وہ خدا کی راہ میں جنگ کرتے ہیں، پھر قتل کرتے ہیں اور قتل ہو جاتے ہیں
وَعْدًا عَلَیْہِ حَقًّا فِی التَّوْرَاۃِ وَالْاِنْجِیْلِ وَالْقُرْاٰنِ
یہ اس کے ذمہ سچا وعدہ ہے جو اس نے توریت، انجیل اور قرآن میں فرمایا
وَمَنْ ٲَوْفٰی بِعَھْدِہٖ مِنَ ﷲِ
اور کون ہے جو خدا سے بڑھ کر وعدہ پورا کرنے والا ہے
فَاسْتَبْشِرُوْا بِبَیْعِكُمُ الَّذِیْ بَایَعْتُمْ بِہٖ
پس مژدہ ہو تمہارے سودے پر جو تم نے خدا سے کیا ہے
وَذٰلِكَ ھُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۔
اور یہ ان کی بہت بڑی کامیابی ہے
التَّائِبُوْنَ، الْعَابِدُوْنَ، الْحَامِدُوْنَ
جو توبہ کرنے والے، عبادت کرنے والے، اس کی حمد کرنے والے
السَّائِحُوْنَ، الرَّاكِعُوْنَ، السَّاجِدُوْنَ
روزہ رکھنے والے، رکوع کرنے والے، سجدہ کرنے والے
الْاٰمِرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَالنَّاھُوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ
نیک کاموں کا حکم دینے والے، برے کاموں سے روکنے والے
وَالْحَافِظُوْنَ لِحُدُوْدِ ﷲِ، وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ۔
اور خدا کی حدوں کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ ایسے مومنوں کو خوشخبری دو۔
ٲَشْھَدُ یَا ٲَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ
اے مومنوں کے امیر، میں گواہی دیتا ہوں
ٲَنَّ الشَّاكَّ فِیْكَ مَا اٰمَنَ بِالرَّسُوْلِ الْاَمِیْنِ
کہ جو آپ کی امامت میں شک کرے وہ رسولِ امینؐ پر ایمان نہیں لایا
وَٲَنَّ الْعَادِلَ بِكَ غَیْرَكَ عَانِدٌ عَنِ الدِّیْنِ الْقَوِیْمِ
اور جو آپ کے علاوہ غیر کو مانے تو وہ اس محکم دین کا دشمن ہے
الَّذِی ارْتَضَاہُ لَنَا رَبُّ الْعَالَمِیْنَ
جسے جہانوں کے رب نے ہمارے لئے پسند فرمایا
وَٲَكْمَلَہٗ بِوِلَایَتِكَ یَوْمَ الْغَدِیْرِ
اور یوم غدیر آپ کی ولایت سے اس کو کامل کیا
وَٲَشْھَدُ ٲَنَّكَ الْمَعْنِیُّ بِقَوْلِ الْعَزِیْزِ الرَّحِیْمِ:
اور میں گواہی دیتا ہوں کہ قوی و مہربان [خدا] کے قول میں آپ ہی مراد ہیں
وَٲَنَّ ھٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْمًا فَاتَّبِعُوْہُ
کہ بے شک یہ میرا سیدھا راستہ ہے، پس اس کی پیروی کرو
وَلَا تَتَّبِعُوْا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِیْلِہٖ۔
اور ٹیڑھے راستوں پر نہ چلو کہ وہ تمہیں اس کے راستے سے بھٹکا دیں گے۔
ضَلَّ وَﷲِ وَٲَضَلَّ مَنِ اتَّبَعَ سِوَاكَ
بخدا آپ کے غیر کا پیروکار گمراہ اور گمراہ کرنے والا ہے
وَعَنَدَ عَنِ الْحَقِّ مَنْ عَادَاكَ
اور آپ کا دشمن حق و حقیقت کا دشمن ہے
اَللّٰھُمَّ سَمِعْنَا لِاَمْرِكَ وَٲَطَعْنَا
اے معبود! ہم نے تیرا فرمان سنا اور اطاعت کی
وَاتَّبَعْنَا صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِیْمَ
اور تیری صراط مستقیم ﴿علیؑ﴾ کی پیروی کی
فَاھْدِنَا رَبَّنَا، وَلَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ ھَدَیْتَنَا اِلٰی طَاعَتِكَ
پس قائم رکھ ہمیں اے ہمارے رب، اور جب ہمیں اپنی اطاعت کی راہ دکھائی ہے تو ہمارے دلوں کو کج نہ ہونے دے
وَاجْعَلْنَا مِنَ الشَّاكِرِیْنَ لِاَنْعُمِكَ۔
اور ہمیں اپنی نعمتوں کا شکر گزار بنا دے۔
وَٲَشْھَدُ ٲَنَّكَ لَمْ تَزَلْ لِلْھَوٰی مُخَالِفًا
میں گواہی دیتا ہوں کہ آپؑ ہمیشہ خواہش نفس کے مخالف رہے
وَلِلتُّقٰی مُحَالِفًا، وَعَلٰی كَظْمِ الْغَیْظِ قَادِرًا
پرہیز گاری کے حامی، غصے کو پینے پر قادر
وَعَنِ النَّاسِ عَافِیًا غَافِرًا
اور لوگوں کو معاف کرنے بخش دینے والے رہے
وَاِذَا عُصِیَ ﷲُ سَاخِطًا وَاِذَا ٲُطِیْعَ ﷲُ رَاضِیًا
آپ خدا کی نافرمانی پر ناراض اور اس کی اطاعت پر راضی ہوئے
وَبِمَا عَھِدَ اِلَیْكَ عَامِلًا
اپنی ذمہ داری پوری کرنے والے رہے
رَاعِیًا لِمَا اسْتُحْفِظْتَ، حَافِظًا لِمَا اسْتُوْدِعْتَ
قابل حفاظت چیزوں کے نگہبان، خدا و رسولؐ کی امانتوں کے محافظ
مُبَلِّغًا مَا حُمِّلْتَ، مُنْتَظِرًا مَا وُعِدْتَ
احکام الہی کے مبلغ اور اس کے وعدوں کے منتظر رہے۔
وَٲَشْھَدُ ٲَنَّكَ مَا اتَّقَیْتَ ضَارِعًا
اور میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ کی رواداری کمزوری کی وجہ سے نہ تھی
وَلَا ٲَمْسَكْتَ عَنْ حَقِّكَ جَازِعًا
آپ کی اپنے حق پر خاموشی خوف کے باعث نہ تھی
وَلَا ٲَحْجَمْتَ عَنْ مُجَاھَدَۃِ غَاصِبِیْكَ نَاكِلًا
غاصبوں سے جہاد نہ کرنے میں آپ کی سستی کا دخل نہ تھا
وَلَا ٲَظْھَرْتَ الرِّضٰی بِخِلَافِ مَا یُرْضِیْ ﷲَ مُدَاھِنًا
آپ نے رضائے الہی کے خلاف سہل پسندی سے اپنی رضا مندی کا اظہار نہیں کیا
وَلَا وَھَنْتَ لِمَا ٲَصَابَكَ فِیْ سَبِیْلِ ﷲِ
اور خدا کی راہ میں مصیبتوں پر کبھی کم ہمتی سے کام نہیں لیا
وَلَا ضَعُفْتَ وَلَا اسْتَكَنْتَ عَنْ طَلَبِ حَقِّكَ مُرَاقِبًا
آپ نے دیکھنے، سننے، اپنا حق طلب کرنے میں کوئی کمزوری اور ناتوانی نہیں دکھائی
مَعَاذَ ﷲِ ٲَنْ تَكُوْنَ كَذٰلِكَ
اس سے خدا کی پناہ کہ آپ اس طرح کے ہوں
بَلْ اِذْ ظُلِمْتَ احْتَسَبْتَ رَبَّكَ
بلکہ جب آپ پر ظلم کیا گیا جس پر آپ نے صبر کیا
وَفَوَّضْتَ اِلَیْہِ ٲَمْرَكَ
اور اپنا یہ معاملہ خدا کے سپرد کر دیا
وَذَكَّرْتَھُمْ فَمَا ادَّكَرُوْا
آپ نے انہیں نصیحت کی تو انہوں نے قبول نہ کی
وَوَعَظْتَھُمْ فَمَا اتَّعَظُوْا
ان کو سمجھایا تو وہ نہیں سمجھے
وَخَوَّفْتَھُمُ ﷲَ فَمَا تَخَوَّفُوْا
اور آپ نے خدا سے ڈرایا تو وہ نہیں ڈرے
وَٲَشْھَدُ ٲَنَّكَ یَا ٲَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ
اے مومنوں کے امیر، میں گواہی دیتا ہوں
جَاھَدْتَ فِی ﷲِ حَقَّ جِھَادِہٖ
کہ آپ نے خدا کیلئے وہ جہاد کیا جو جہاد کرنے کا حق ہے
حَتّٰی دَعَاكَ ﷲُ اِلٰی جِوَارِہٖ
یہاں تک کہ خدا نے آپ کو جوار رحمت میں بلا لیا
وَقَبَضَكَ اِلَیْہِ بِاخْتِیَارِہٖ
اور اپنے اختیار سے آپ کی جان قبض کر لی
وَٲَلزَمَ ٲَعْدَائَكَ الْحُجَّۃَ بِقَتْلِھِمْ اِیَّاكَ
اور آپ کے دشمنوں پر حجت لازم کر دی جب کہ انہوں نے آپ کو قتل کیا
لِتَكُوْنَ الْحُجَّۃُ لَكَ عَلَیْھِمْ
تاکہ آپ کی طرف سے ان پر حجت قائم ہو جائے
مَعَ مَا لَكَ مِنَ الْحُجَجِ الْبَالِغَۃِ عَلٰی جَمِیْعِ خَلْقِہٖ۔
علاوہ ان کامل حجتوں کے جو آپ کی طرف سے ساری مخلوق پر قائم ہیں
اَلسَّلَامُ عَلَیْكَ یَا ٲَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ
آپ پر سلام ہو اے مومنوں کے امیر
عَبَدْتَ ﷲَ مُخْلِصًا
کہ آپ نے خدا کی خالص عبادت کی،
وَجَاھَدْتَ فِی ﷲِ صَابِرًا
خدا کی راہ میں صبر تحمل کے ساتھ جہاد کیا
وَجُدْتَ بِنَفْسِكَ مُحْتَسِبًا
اور حُسن نیت کے ساتھ اپنی جان قربان کر دی
وَعَمِلْتَ بِكِتَابِہٖ، وَاتَّبَعْتَ سُنَّۃَ نَبِیِّہٖ
آپ نے کتاب خدا پر عمل کیا، اس کے نبی کی سنت کی پیروی فرمائی
وَٲَقَمْتَ الصَّلَاۃَ، وَاٰتَیْتَ الزَّكَاۃَ
آپ نے نماز قائم رکھی اور زکوٰۃ دیتے رہے
وَٲَمَرْتَ بِالْمَعْرُوْفِ، وَنَھَیْتَ عَنِ الْمُنْكَرِ مَا اسْتَطَعْتَ
آپ نے نیکی کا حکم دیا اور برائی سے منع کیا جہاں تک آپ کی وسعت تھی
مُبْتَغِیًا مَا عِنْدَ ﷲِ، رَاغِبًا فِیْمَا وَعَدَ ﷲُ
آپ کا مقصد رضائے الہی تھا، خدا کے وعدوں پر توجہ رکھی
لَا تَحْفِلُ بِالنَّوَائِبِ، وَلَا تَھِنُ عِنْدَ الشَّدَائِدِ
آپ مصائب میں گھبرائے نہیں اور سختیوں میں کمزوری ظاہر نہیں کی
وَلَا تَحْجِمُ عَنْ مُحَارِبٍ
نہ آپ نے کسی دشمن کو پیٹھ دکھائی
ٲَفِكَ مَنْ نَسَبَ غَیْرَ ذٰلِكَ اِلَیْكَ
جس نے اس کے علاوہ آپ کے بارے کچھ کہا اس نے آپ پر بہتان لگایا
وَافْتَرٰی بَاطِلًا عَلَیْكَ، وَٲَوْلٰی لِمَنْ عَنَدَ عَنْكَ
اور آپ کے بارے میں جھوٹ باندھا اور یہ باتیں آپ کے دشمنوں میں موجود رہی ہیں
لَقَدْ جَاھَدْتَ فِی ﷲِ حَقَّ الْجِھَادِ
جب کہ آپ نے خدا کی خاطر جہاد کا حق ادا کر دیا
وَصَبَرْتَ عَلَی الْاَذٰی صَبْرَ احْتِسَابٍ
اور دکھوں پر خیر خواہی کے ساتھ صبر استقامت کا مظاہرہ کیا
وَٲَنْتَ ٲَوَّلُ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَصَلّٰی لَہٗ وَجَاھَدَ
آپ ہی وہ پہلے فرد ہیں کہ خدا پر ایمان لائے، اس کی نماز پڑھی اور جہاد کیا
وَٲَبْدٰی صَفْحَتَہٗ فِیْ دَارِ الشِّرْكِ
آپ نے اس شرک کے مرکز میں خود کو آشکار کیا
وَالْاَرْضُ مَشْحُوْنَۃٌ ضَلَالَۃً
اور گمراہی سے بھری دنیا میں
وَالشَّیْطَانُ یُعْبَدُ جَھْرَۃً
جہاں کھلے عام شیطان کی پوجا کی جا رہی تھی
وَٲَنْتَ الْقَائِلُ: لَا تَزِیْدُنِیْ كَثْرَۃُ النَّاسِ حَوْلِیْ عِزَّۃً
وہ آپ ہی ہیں جو کہہ رہے تھے کہ میرے گرد لوگوں کی کثرت سے میری عزت میں کچھ اضافہ نہیں ہوتا
وَلَا تَفَرُّقُھُمْ عَنِّیْ وَحْشَۃً
اور نہ ان کے ہٹ جانے سے مجھے وحشت ہوتی ہے
وَلَوْ ٲَسْلَمَنِی النَّاسُ جَمِیْعًا لَمْ ٲَكُنْ مُتَضَرِّعًا۔
اگر سب لوگ مجھے چھوڑ کر جائیں تو بھی میں باطل کے آگے نہیں جھکوں گا
اعْتَصَمْتَ بِاللّٰهِ فَعَزَزْتَ
آپ نے خدا سے تعلق رکھا تو اس نے عزت عطا کی
وَاٰثَرْتَ الْاٰخِرَۃَ عَلَی الْاُوْلٰی فَزَھِدْتَ
آپ نے دنیا کے مقابل آخرت کو ترجیح دی، پس آپ نے زہد کو اپنایا
وَٲَیَّدَكَ ﷲُ، وَھَدَاكَ، وَٲَخْلَصَكَ وَاجْتَبَاكَ
پھر خدا نے آپ کی تائید فرمائی، آپ کو ہدایت دی، آپ کو خالص اپنا بنایا اور برگزیدہ کیا
فَمَا تَنَاقَضَتْ ٲَفْعَالُكَ، وَلَا اخْتَلَفَتْ ٲَقْوَالُكَ
پس آپ کے افعال میں تفریق نہیں، آپ کے اقوال میں مختلف نہیں
وَلَا تَقَلَّبَتْ ٲَحْوَالُكَ
آپ کے احوال متغیر نہیں ہوئے
وَلَا ادَّعَیْتَ وَلَا افْتَرَیْتَ عَلَی ﷲِ كَذِبًا
آپ نے کوئی غلط دعویٰ نہیں کیا نہ آپ نے خدا کے بارے میں جھوٹ کہا
وَلَا شَرِھْتَ اِلَی الْحُطَامِ، وَلَا دَنَّسَكَ الْاَثَامُ
آپ نے دنیا کمانے کی خواہش نہیں رکھی نہ گناہوں نے آپ کو آلودہ کیا
وَلَمْ تَزَلْ عَلٰی بَیِّنَۃٍ مِنْ رَبِّكَ، وَیَقِیْنٍ مِنْ ٲَمْرِكَ
آپ ہمیشہ ہمیشہ خدا کی دلیل و حجت پر قائم اور یقین کے ساتھ عمل کرتے رہے
تَھْدِیْ اِلَی الْحَقِّ وَاِلٰی صِرَاطٍ مُسْتَقِیْمٍ
یعنی حق و حقیقت راہ راست کی طرف رہبری فرمائی
ٲَشْھَدُ شَھَادَۃَ حَقٍّ، وَٲُقْسِمُ بِاللّٰهِ قَسَمَ صِدْقٍ
کہ گواہی دیتا ہوں میں سچی گواہی اور قسم کھاتا ہوں اللہ کی سچی قسم
ٲَنَّ مُحَمَّدًا وَاٰلَہٗ صَلَوَاتُ ﷲِ عَلَیْھِمْ سَادَاتُ الْخَلْقِ
کہ محمدؐ و آل محمدؐ ساری مخلوق کے سردار ہیں، خدا کی رحمتیں ہوں ان پر
وَٲَنَّكَ مَوْلَایَ وَمَوْلَی الْمُؤْمِنِیْنَ
اور بے شک آپ میرے مولا اور مومنوں کے مولا ہیں
وَٲَنَّكَ عَبْدُ ﷲِ وَوَلِیُّہٗ
یقیناً آپ خدا کے بندے، اس کے ولی
وَٲَخُوْ الرَّسُوْلِ وَوَصِیُّہٗ وَوَارِثُہٗ
رسولؐ کے بھائی، ان کے وصی اور ان کے وارث ہیں
وَٲَنَّہُ الْقَائِلُ لَكَ: وَالَّذِیْ بَعَثَنِیْ بِالْحَقِّ
اور انہوں نے آپ کیلئے فرمایا، قسم اس کی جس نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث کیا
مَا اٰمَنَ بِیْ مَنْ كَفَرَ بِكَ
کہ وہ مجھ پر ایمان نہیں لایا جس نے تمہارا انکار کیا
وَلَا ٲَقَرَّ بِاللّٰهِ مَنْ جَحَدَكَ
اور جو تمہارا منکر ہوا اس نے خدا کو نہیں مانا
وَقَدْ ضَلَّ مَنْ صَدَّ عَنْكَ
وہ گمراہ ہوا جو تم سے پھر گیا
وَلَمْ یَھْتَدِ اِلَی ﷲِ وَلَا اِلَیَّ مَنْ لَا یَھْتَدِیْ بِكَ۔
جو تمہاری ولایت کا قائل نہیں وہ اللہ کی طرف اور میری طرف راہ نہیں پائے گا
وَھُوَ قَوْلُ رَبِّیْ عَزَّ وَجَلَّ:
یہی میری عزت وجلال والے رب کا قول ہے
وَاِنِّیْ لَغَفَّارٌ لِمَنْ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا
یقیناً میں اسے بخشنے والا ہوں جو توبہ کرے، ایمان لائے اور نیک عمل کرے
ثُمَّ اھْتَدٰی اِلٰی وِلَایَتِكَ مَوْلَایَ
پھر آپ کی ولایت کے راستے پر آئے میرے سردار
فَضْلُكَ لَا یَخْفٰی، وَنُوْرُكَ لَا یُطْفَٲُ
آپ کی بزرگی پوشیدہ نہیں، آپ کا نور بجھتا نہیں
وَٲَنَّ مَنْ جَحَدَكَ الظَّلُوْمُ الْاَشْقٰی
بے شک آپ سے جنگ کرنے والا بڑا ظالم اور بد بخت ہے
مَوْلَایَ ٲَنْتَ الْحُجَّۃُ عَلَی الْعِبَادِ
میرے آقا آپ بندوں پر خدا کی حجت ہیں
وَالْھَادِیْ اِلَی الرَّشَادِ، وَالْعُدَّۃُ لِلْمَعَادِ
راہ راست کی طرف لے جانے والے اور آخرت کے لئے سرمایہ ہیں
مَوْلَایَ لَقَدْ رَفَعَ ﷲُ فِی الْأُوْلٰی مَنْزِلَتَكَ
میرے مولا! دنیا میں خدا نے آپ کا مرتبہ بلند کیا
وَٲَعْلٰی فِی الْاٰخِرَۃِ دَرَجَتَكَ
اور آخرت میں آپ کو بلند تر قرار دیا ہے
وَبَصَّرَكَ مَا عَمِیَ عَلٰی مَنْ خَالَفَكَ
خدا نے آپ کو بصیرت دی جب کہ آپ کے مخالف نابینا ہیں
وَحَالَ بَیْنَكَ وَبَیْنَ مَوَاھِبِ ﷲِ لَكَ
اس لئے وہ آپ کے اور آپ کیلئے خدا کے عطیوں کے درمیان حائل ہو گئے
فَلَعَنَ ﷲُ مُسْتَحِلِّی الْحُرْمَۃِ مِنْكَ
پس خدا لعنت کرے ان پر جنہوں نے آپ کی حرمت کا خیال نہ رکھا
وَذَائِدِی الْحَقِّ عَنْكَ
اور آپ کے حق پر قبضہ کر بیٹھے
وَٲَشْھَدُ ٲَنَّھُمُ الْاَخْسَرُوْنَ
میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ بہت گھاٹے میں ہیں
الَّذِیْنَ تَلْفَحُ وُجُوْھَھُمُ النَّارُ، وَھُمْ فِیْھَا كَالِحُوْنَ
آگ ان کے چہروں کو پگھلائے گی اور وہ اس میں خوار ہوں گے
وَٲَشْھَدُ ٲَنَّكَ مَا ٲَقْدَمْتَ وَلَا ٲَحْجَمْتَ
اور میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ کا آگے بڑھنا، پیچھے ہٹنا،
وَلَا نَطَقْتَ وَلَا ٲَمْسَكْتَ اِلَّا بِٲَمْرٍ مِنَ ﷲِ وَرَسُوْلِہٖ
آپ کا کلام کرنا اور خاموش رہنا بس اللہ اور اس کے رسولؐ کے حکم سے ہے
قُلْتَ: وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ
آپ نے فرمایا، قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے
لَقَدْ نَظَرَ اِلَیَّ رَسُوْلُ ﷲِ صَلَّی ﷲُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ
کہ حضرت رسولؐ اللہ نے مجھ پر نظر فرمائی
ٲَضْرِبُ بِالسَّیْفِ قُدْمًا
جب میں بڑھ بڑھ کے تلوار چلا رہا تھا
فَقَالَ: یَا عَلِیُّ ٲَنْتَ مِنِّیْ بِمَنْزِلَۃِ ھَارُوْنَ مِنْ مُوْسٰی
پس فرمایا، اے علیؑ! میرے ساتھ تیری وہی نسبت ہے جو ہارونؑ کی موسٰیؑ سے تھی
اِلَّا ٲَنَّہٗ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ
مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں
وَٲُعْلِمُكَ ٲَنَّ مَوْتَكَ وَحَیَاتَكَ مَعِیْ وَعَلٰی سُنَّتِیْ
اور میں تجھے بتا دوں کہ بے شک تیری موت و حیات میرے ساتھ اور میری سنت پر ہے
فَوَﷲِ مَا كَذِبْتُ وَلَا كُذِّبْتُ
بخدا میں نے جھوٹ نہیں کہا نہ جھوٹ سنا
وَلَا ضَلَلْتُ وَلَا ضُلَّ بِیْ
نہ میں گمراہ ہوا نہ گمراہ کیا
وَلَا نَسِیْتُ مَا عَھِدَ اِلَیَّ رَبِّیْ
اور میں اپنے رب کی فرمائش نہیں بھولا
وَاِنِّیْ لَعَلٰی بَیِّنَۃٍ مِنْ رَبِّیْ بَیَّنَہَا لِنَبِیِّہٖ
میں ضرور اس دلیل پر قائم ہوں جو میرے رب نے اپنے نبیؐ کو بتائی
وَبَیَّنَھَا النَّبِیُّ لِیْ
اور نبیؐ نے مجھ کو سمجھائی
وَاِنِّیْ لَعَلَی الطَّرِیْقِ الْوَاضِحِ ٲَلْفِظُہٗ لَفْظًا۔
میں لفظ بہ لفظ واضح راستے اور طریقے پر رواں ہوں۔
صَدَقْتَ وَﷲِ وَقُلْتَ الْحَقَّ
بخدا آپ نے سچ فرمایا اور حق بات کہی
فَلَعَنَ ﷲُ مَنْ سَاوَاكَ بِمَنْ نَاوَاكَ
پس خدا لعنت کرے اس پر جس نے آپ کو آپ کے مخالف کے برابر جانا
وَﷲُ جَلَّ اسْمُہٗ یَقُوْلُ:
جبکہ بلند نام والا خدا کہتا ہے،
ھَلْ یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَعْلَمُوْنَ وَالَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْن۔
کہ آیا برابر ہو سکتے ہیں جاننے والے اور وہ جو نہیں جانتے ہیں
فَلَعَنَ ﷲُ مَنْ عَدَلَ بِكَ مَنْ فَرَضَ ﷲُ عَلَیْہِ وِلَایَتَكَ
پس خدا لعنت کرے اس پر جو خدا کی طرف سے واجب شدہ آپ کی ولایت سے منہ موڑے رہا
وَٲَنْتَ وَلِیُّ ﷲِ، وَٲَخُوْ رَسُوْلِہٖ، وَالذَّابُّ عَنْ دِیْنِہٖ
جبکہ آپ خدا کے دوست اس کے رسولؐ کے برادر اور اس کے دین کو بچانے والے ہیں
وَالَّذِیْ نَطَقَ الْقُرْاٰنُ بِتَفْضِیْلِہٖ، قَالَ ﷲُ تَعَالٰی:
آپ وہ ہیں جس کی فضیلت کو قرآن ظاہر کرتا ہے جیسے خدائے تعالی نے فرمایا
وَفَضَّلَ ﷲُ الْمُجَاھِدِیْنَ عَلَی الْقَاعِدِیْنَ ٲَجْرًا عَظِیْمًا
کہ خدا نے بڑائی دی ہے مجاہدوں کو پیچھے بیٹھ رہنے والوں پر، ان کیلئے اس کی طرف سے بڑا اجر
دَرَجَاتٍ مِنْہُ وَمَغْفِرَۃً وَرَحْمَۃً، وَكَانَ ﷲُ غَفُوْرًا رَحِیْمًا۔
اور بلند درجہ، بخشش اور رحمت ہے، اور خدا بہت بخشنے والا اور مہربان ہے۔
وَقَالَ ﷲُ تَعَالٰی: ٲَجَعَلْتُمْ سِقَایَہَ الْحَاجِّ وَعِمَارَۃَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ
اور خدائے تعالی نے یہ بھی فرمایا، آیا تم حاجیوں کو پانی پلانے اور مسجد الحرام کو آباد کرنے والے کے عمل کو
كَمَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَجَاھَدَ فِیْ سَبِیْلِ ﷲِ
ویسا قرار دیتے ہو جو کہ خدا و یوم آخرت پر ایمان لایا اور اس نے راہ خدا میں جہاد کیا
لَا یَسْتَوُوْنَ عِنْدَ ﷲِ، وَﷲُ لَا یَھْدِی الْقَوْمَ الظَّالِمِیْنَ
خدا کے ہاں برابر نہیں ہیں اور خدا ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَھَاجَرُوْا وَجَاھَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ ﷲِ بِٲَمْوَالِھِمْ وَٲَنْفُسِھِمْ
وہ جو ایمان لائے، ہجرت کی اور انہوں نے خدا کی راہ میں جہاد کیا اپنے مالوں اور جانوں سے
ٲَعْظَمُ دَرَجَۃً عِنْدَ ﷲِ، وَٲُولٰئِكَ ھُمُ الْفَائِزُوْنَ
خدا کے نزدیک ان کا بڑا درجہ ہے، وہی تو کامیاب ہیں
یُبَشِّرُھُمْ رَبُّھمْ بِرَحْمَۃٍ مِنْہُ وَرِضْوَانٍ
ان کا پروردگار بشارت دیتا ہے ان کو اپنی رحمت اور خوشنودی کی
وَجَنَّاتٍ لَھُمْ فِیْھَا نَعِیْمٌ مُقِیْمٌ
اور ان کیلئے باغات ہیں نعمت بھرے
خَالِدِیْنَ فِیْھَا ٲَبَدًا، اِنَّ ﷲَ عِنْدَہٗ ٲَجْرٌ عَظِیْمٌ۔
جن میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہا کریں گے، کیونکہ خدا وہ ہے جس کے ہاں بہت بڑا اجر ہے۔
ٲَشْھَدُ ٲَنَّكَ الْمَخْصُوْصُ بِمِدْحَۃِ ﷲِ
میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ خدا کی مدح کے خاص مصداق ہیں
الْمُخْلِصُ لِطَاعَۃِ ﷲِ
خدا کی اطاعت میں مخلص ہیں
لَمْ تَبغِ بِالْھُدٰی بَدَلًا
آپ نے ہدایت کے بدلے میں کچھ نہیں چاہا
وَلَمْ تُشْرِكْ بِعِبَادَۃِ رَبِّكَ ٲَحَدًا
اور اپنے یگانہ خدا کی عبادت میں کسی کو شریک نہیں کیا
وَٲَنَّ ﷲَ تَعَالی اسْتَجَابَ لِنَبِیِّہٖ صَلَّی ﷲُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ فِیْكَ دَعْوَتَہٗ
بے شک خدائے تعالی نے اپنے نبیؐ کی وہ دعا قبول فرمائی جو آپ کے بارے میں تھی
ثُمَّ ٲَمَرَہٗ بِاِظْھَارِ مَا ٲَوْلَاكَ لِاُمَّتِہٖ
پھر ان کو حکم دیا کہ ان کی امت پر آپ کو جو بڑائی ہے اس کا اظہار کریں
اِعْلَاءً لِشَٲْنِكَ، وَاِعْلَانًا لِبُرْھَانِكَ
تاکہ آپ کی شان عیاں ہو، نیز آپ کے بارے میں برہان و دلیل کا اعلان کریں
وَدَحْضًا لِلْاَبَاطِیْلِ، وَقَطْعًا لِلْمَعَاذِیْرِ
کہ باطل ہٹ جائے اور بہانے کٹ جائیں
فَلَمَّا ٲَشْفَقَ مِنْ فِتْنَۃِ الْفَاسِقِیْنَ، وَاتَّقٰی فِیْكَ الْمُنَافِقِیْنَ
پس وہ آپ کے حق میں بدکرداروں اور منافقوں سے خوف و خطر محسوس کرتے تھے
ٲَوْحٰی اِلَیْہِ رَبُّ الْعَالَمِیْنَ:
تب جہانوں کے پروردگار نے ان کو یہ وحی بھیجی
یَا ٲَیُّھَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَا ٲُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَبِّكَ
کہ اے رسولؐ جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے نازل کیا گیا وہ پہنچا دو
وَاِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَہٗ
اگر تم نے ایسا نہ کیا تو تم نے اس کا کوئی پیغام نہیں پہنچایا
وَﷲُ یَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ۔
اور خدا تمہیں لوگوں سے محفوظ رکھے گا
فَوَضَعَ عَلٰی نَفْسِہٖ ٲَوْزَارَ الْمَسِیْرِ
پس حضرت نے سفر کی زحمت کا بوجھ اٹھا لیا
وَنَھَضَ فِیْ رَمْضَاءِ الْھَجِیْرِ
غدیر کے تپتے ہوئے صحرا میں رک گئے
فَخَطَبَ وَٲَسْمَعَ وَنَادٰی فَٲَبْلَغَ
پس خطبہ دیا اور بآواز بلند سب کو سنایا
ثُمَّ سَٲَلَھُمْ ٲَجْمَعَ، فَقَالَ: ھَلْ بَلَّغْتُ؟
پھر اس اجتماع سے سوال کیا، فرمایا آیا میں نے تبلیغ کر دی؟
فَقَالُوْا: اَللّٰھُمَّ بَلٰی فَقَالَ: اَللّٰھُمَّ اشْھَدْ
سب نے کہا ہاں۔ تب فرمایا اے اللہ! گواہ رہنا۔
ثُمَّ قَالَ: ٲَلَسْتُ ٲَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ ٲَنْفُسِھِمْ
پھر فرمایا، آیا میں مومنوں پر ان کی جانوں سے بڑھ کر مختار نہیں ہوں؟
فَقَالُوْا: بَلٰی۔ فَٲَخَذَ بِیَدِكَ، وَقَالَ:
انہوں نے کہا، ہاں۔ پس حضرتؐ نے آپؑ کا ہاتھ پکڑا اور کہا
مَنْ كُنْتُ مَوْلَاہُ فَھٰذَا عَلِیُّ مَوْلَاہُ
جس کا میں مولا ہوں پس یہ علیؑ اس کا مولا ہے
اَللّٰھُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاہُ، وَعَادِ مَنْ عَادَاہُ
اے اللہ اس کے دوست سے دوستی اور اس کے دشمن سے دشمنی رکھ
وَانْصُرْ مَنْ نَصَرَہٗ، وَاخْذُلْ مَنْ خَذَلَہٗ۔
جو اس کی مدد کرے اس کی مدد کر اور جو اسے چھوڑے تو اسے چھوڑ دے۔
فَمَا اٰمَنَ بِمَا ٲَنْزَلَ ﷲُ فِیْكَ عَلٰی نَبِیِّہٖ اِلَّا قَلِیْلٌ
پس وہ ایمان نہ لائے اس پر جو خدا نے آپ کے حق میں اپنے نبیؐ پر نازل کیا لیکن تھوڑے لوگ
وَلَا زَادَ ٲَكْثَرَھُمْ غَیْرَ تَخْیِیْرٍ
اور ان میں زیادہ تر لوگوں نے گھاٹے کے سوا کچھ حاصل نہ کیا
وَلَقَدْ ٲَنْزَلَ ﷲُ تَعَالٰی فِیْكَ مِنْ قَبْلُ وَھُمْ كَارِھُوْنَ:
اس سے پہلے خدا نے آپ کے بارے میں آیات نازل کیں تو انہوں نے ناپسندیدگی ظاہر کی
یَا ٲَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَنْ یَرْتَدَّ مِنْكُمْ عَنْ دِیْنِہٖ
اے ایمان لانے والو! تم میں سے جو کوئی اپنے دین سے پھر جائے گا
فَسَوْفَ یَٲْتِی ﷲُ بِقَوْمٍ یُحِبُّھُمْ وَیُحِبُّوْنَہٗ
تو خدا آئندہ ایسا گروہ لے آئے گا جسے وہ چاہتا اور وہ اسے چاہتے ہیں
ٲَذِلَّۃٍ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ، ٲَعِزَّۃٍ عَلَی الْكَافِرِیْنَ
وہ مومنوں کے ساتھ نرم اور کافروں پر سخت گیر ہیں
یُجَاھِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ ﷲِ وَلَا یَخَافُوْنَ لَوْمَۃَ لَائِمٍ
وہ خدا کی راہ میں جہاد کرتے ہیں اور ملامت کرنے والوں کی ملامت سے نہیں ڈرتے
ذٰلِكَ فَضْلُ ﷲِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَشَاءُ، وَﷲُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ
یہ تو اللہ کا فضل ہے جسے چاہے عطا کرتا ہے، اور اللہ وسعت والا علم والا ہے
اِنَّمَا وَلِیُّكُمُ ﷲُ وَرَسُوْلُہٗ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا
تحقیق تمہارا ولی اللہ اور اس کا رسولؐ اور وہ ہیں جو ایمان لائے
الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلَاۃَ وَیُؤْتُوْنَ الزَّكَاۃَ وَھُمْ رَاكِعُوْنَ
انہوں نے نماز قائم کی اور حالت رکوع میں زکوٰۃ دیتے ہیں
وَمَنْ یَتَوَلَّ ﷲَ وَرَسُوْلَہٗ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا
اور جو لوگ اللہ اس کے رسولؐ اور صاحبان ایمان کی ولایت قبول کر لیں
فَاِنَّ حِزْبَ ﷲِ ھُمُ الْغَالِبُوْنَ۔
تو وہ خدا کا گروہ ہیں غالب رہنے والے
رَبَّنَا اٰمَنَّا بِمَا ٲَنْزَلْتَ وَاتَّبَعْنَا الرَّسُوْلَ
ہمارے رب ہم اس پر ایمان لائے جو تو نے نازل کیا اور رسولؐ کی پیروی کرتے ہیں
فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاھِدِیْنَ
پس ہمیں گواہوں میں لکھ لے
رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ ھَدَیْتَنَا
ہمارے رب ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ ہونے دے جبکہ تو نے ہمیں ہدایت دی
وَھَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَۃً، اِنَّكَ ٲَنْتَ الْوَھَّابُ۔
اور ہمیں اپنی طرف سے رحمت عطا فرما، بے شک تو بہت عطا کرنے والا ہے
اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَعْلَمُ ٲَنَّ ھٰذَا ھُوَ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِكَ
اے اللہ ہم جانتے ہیں کہ یہ سب کچھ وہی حق ہے کہ جو تیری طرف سے ہے
فَالْعَنْ مَنْ عَارَضَہٗ وَاسْتَكْبَرَ وَكَذَّبَ بِہٖ وَكَفَرَ
پس لعنت کر ان پر جو ان کے مخالف، تکبر کرنے والے، اس کا انکار کرنے، جھٹلانے والے ہیں
وَسَیَعْلَمُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ٲَیَّ مُنْقَلَبٍ یَنْقَلِبُوْنَ
اور ظلم کرنے والوں کو جلد معلوم ہو جائے گا کہ انہیں کہاں لوٹ کر جانا ہے
اَلسَّلَامُ عَلَیْكَ یَا ٲَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ، وَسَیِّدَ الْوَصِیِّیْنَ
سلام ہو آپ پر اے مومنوں کے امیر، اوصیاء کے سردار
وَٲَوَّلَ الْعَابِدِیْنَ، وَٲَزْھَدَ الزَّاھِدِیْنَ
عبادت کرنے والوں میں پہلے، سب سے بڑے زاہد
وَرَحْمَۃُ ﷲِ وَبَرَكَاتُہٗ وَصَلَوَاتُہٗ وَتَحِیَّاتُہٗ
خدا کی رحمت ہو اور اس کی برکتیں اور اس کا درود و سلام ہو
ٲَنْتَ مُطْعِمُ الطَّعَامِ عَلٰی حُبِّہٖ مِسْكِیْنًا وَیَتِیْمًا وَٲَسِیْرًا
آپ ہیں خدا کی محبت میں مسکین، یتیم اور اسیر کو کھانا کھلانے والے
لِوَجْہِ ﷲِ لَا تُرِیْدُ مِنْھُمْ جَزَاءً وَلَا شُكُوْرًا
محض خدا کی خاطر کہ آپ ان سے کسی بدلے اور شکریے کے خواہاں نہ تھے
وَفِیْكَ ٲَنْزَلَ ﷲُ تَعَالٰی:
اور آپ کے بارے میں خدا نے نازل کیا
وَیُؤْثِرُوْنَ عَلٰی ٲَنْفُسِھِمْ وَلَوْ كَانَ بِھِمْ خَصَاصَۃٌ
کہ وہ دوسروں کو خود پر مقدم رکھتے ہیں اگرچہ ان کو شدید حاجت بھی ہو
وَمَنْ یُوْقَ شُحَّ نَفْسِہٖ فَٲُولٰئِكَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۔
اور جو اپنے نفس کو بخل سے بچاتے ہیں تو وہی نجات پانے والے ہیں
وَٲَنْتَ الْكَاظِمُ لِلْغَیْظِ وَالْعَافِیْ عَنِ النَّاسِ
اور آپ ہیں غصے کو پینے والے، لوگوں کو معاف کرنے والے
وَﷲُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ
اور خدا نیکوکاروں کو پسند کرتا ہے
وَٲَنْتَ الصَّابِرُ فِی الْبَٲْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ وَحِیْنَ الْبَٲْسِ
اور آپ ہیں تنگدستی اور سختیوں اور ہنگام جنگ میں صبر کرنے والے
وَٲَنْتَ الْقَاسِمُ بِالسَّوِیَّۃِ، وَالْعَادِلُ فِی الرَّعِیَّۃِ
اور آپ ہیں برابر تقسیم کرنے والے، رعیت میں عدل کرنے والے
وَالْعَالِمُ بِحُدُوْدِ ﷲِ مِنْ جَمِیْعِ الْبَرِیَّۃِ
اور سب سے بڑھ کر خدا کی حدوں کو جاننے والے
وَﷲُ تَعَالٰی ٲَخْبَرَ عَمَّا ٲَوْلَاكَ مِنْ فَضْلِہٖ بِقَوْلِہٖ:
اور اللہ تعالی نے آپ کو فضیلت و بڑائی کی خبر دی اپنے قول میں
ٲَفَمَنْ كَانَ مُؤْمِنًا كَمَنْ كَانَ فَاسِقًا لَا یَسْتَوُوْنَ
کہ آیا جو مومن ہے وہ فاسق کی مانند ہے؟ وہ برابر نہیں ہیں
ٲَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ
لیکن وہ لوگ جو ایمان لائے اور اچھے کام کرتے رہے
فَلَھُمْ جَنَّاتُ الْمَٲْوٰی، نُزُلًا بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ۔
تو ان کے لئے ہمیشگی والے باغات ٹھکانہ ہیں، ان کے بدلے میں جو عمل انہوں نے کیے
وَٲَنْتَ الْمَخْصُوْصُ بِعِلْمِ التَّنْزِیْلِ
اور آپ کو خاص کیا گیا نزول آیات کے علم میں
وَحُكْمِ التَّٲْوِیْلِ، وَنَصِّ الرَّسُوْلِ
اور آیتوں کی تاویل کے مطابق حکم لگانے میں اور رسولؐ کی طرف سے نامزدگی میں
وَلَكَ الْمَوَاقِفُ الْمَشْھُوْدَۃُ، وَالْمَقَامَاتُ الْمَشْھُوْرَۃُ
اور آپ کی ثابت قدمی کے مقامات عیاں ہیں، آپ کے مرتبے آشکار ہیں
وَالْاَیَّامُ الْمَذْكُوْرَۃُ ، یَوْمَ بَدْرٍ
اور آپ کے خاص دن یادگار ہیں، یعنی یوم بدر
وَیَوْمَ الْاَحْزَابِ: اِذْ زَاغَتِ الْاَبْصَارُ
اور یوم خندق کہ جب ڈر سے آنکھیں خیرہ ہو گئیں
وَبَلَغَتِ الْقُلُوْبُ الْحَنَاجِرَ، وَتَظُنُّوْنَ بِاللّٰهِ الظُّنُوْنَا
اور دل گردنوں میں آ پھنسے اور خدا کے بارے میں بد گمانیاں ہونے لگیں
ھُنَالِكَ ابْتُلِیَ الْمُؤْمِنُوْنَ، وَزُلْزِلُوْا زِلْزَالًا شَدِیْدًا
وہاں مومنوں کی آزمائش کی گئی اور ان پر سخت لرزہ طاری ہو گیا
وَاِذْ یَقُوْلُ الْمُنَافِقُوْنَ وَالَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِھِمْ مَرَضٌ
جب منافقین اور جن کے دلوں میں بیماری تھی وہ کہہ رہے تھے
مَا وَعَدَنَا ﷲُ وَرَسُوْلُہٗ اِلَّا غُرُوْرًا
کہ خدا اور رسولؐ نے ہمیں جھوٹے وعدوں کے سوا کچھ نہیں دیا
وَاِذْ قَالَتْ طَائِفَۃٌ مِنْھُمْ یَا ٲَھْلَ یَثْرِبَ
اور یاد کرو جب ان میں سے ایک گروہ نے کہا اے یثرب والو
لَا مُقَامَ لَكُمْ فَارْجِعُوْا
یہاں تمہارے لئے کوئی ٹھکانا نہیں، گھروں کو چلے جاؤ
وَیَسْتَٲْذِنُ فَرِیْقٌ مِنْھُمُ النَّبِیَّ یَقُوْلُوْنَ اِنَّ بُیُوْتَنَا عَوْرَۃٌ
اور ان میں ایک گروہ پیغمبر سے واپسی کی اجازت کیلئے کہتا تھا ہمارے گھر غیر محفوظ ہیں
وَمَا ھِیَ بِعَوْرَۃٍ، اِنْ یُرِیْدُوْنَ اِلَّا فِرَارًا۔
حالانکہ وہ غیر محفوظ نہ تھے، بلکہ وہ صرف جنگ سے بھاگنا چاہتے تھے۔
وَقَالَ ﷲُ تَعَالٰی: وَلَمَّا رَٲَی الْمُؤْمِنُوْنَ الْاَحْزَابَ
اور خدائے تعالیٰ نے فرمایا کہ جب مومنوں نے احزاب کے لشکر کو دیکھا
قَالُوْا ھٰذَا مَا وَعَدَنَا ﷲُ وَرَسُوْلُہٗ
تو کہنے لگے یہ وہی ہے جس کا خدا اور رسولؐ نے ہم سے وعدہ کیا
وَصَدَقَ ﷲُ وَرَسُوْلُہٗ
خدا اور اس کا رسولؐ سچے ہیں
وَمَا زَادَھُمْ اِلَّا اِیْمَانًا وَتَسْلِیْمًا۔
اور اس سے ان کے ایمان و یقین میں اضافہ ہوا۔
فَقَتَلْتَ عَمْرَھُمْ، وَھَزَمْتَ جَمْعَھُمْ
تب آپ نے عمرو ﴿بن عبدود﴾ کو قتل کیا اور ان کے لشکر کو شکست دی
وَرَدَّ ﷲُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِغَیْظِھِمْ لَمْ یَنَالُوْا خَیْرًا
خدا نے کافروں کو غیض و غضب کے عالم میں واپس کیا، اور انہوں نے کوئی بھلائی نہ پائی
وَكَفَی ﷲُ الْمُؤْمِنِیْنَ الْقِتَالَ
اور خدا نے جنگ میں مومنوں کی کفایت فرمائی
وَكَانَ ﷲُ قَوِیًّا عَزِیْزًا
اور خدا قوت والا غالب تر ہے
وَیَوْمَ ٲُحُدٍ اِذْ یُصْعِدُوْنَ وَلَا یَلْوُوْنَ عَلٰی ٲَحَدٍ
اور احد کے دن جب لوگ پہاڑ پر چڑھے جاتے تھے اور پیچھے رہ جانے والوں کو دیکھتے ہی نہ تھے
وَالرَّسُوْلُ یَدْعُوْھُمْ فِیْ ٲُخْرَاھُمْ
اور رسولؐ ان کے پیچھے ان کو پکار رہے تھے
وَٲَنْتَ تَذُوْدُ بِھِمُ الْمُشْرِكِیْنَ
جب کہ آپ مشرکین کو لڑ بھڑ کر پیچھے دھکیلتے جاتے تھے
عَنِ النَّبِیِّ ذَاتَ الْیَمِیْنِ وَذَاتِ الشِّمَالِ
نبیؐ کے دائیں اور بائیں سے
حَتّٰی رَدَّھُمُ ﷲُ تَعَالٰی عَنْكُمَا خَائِفِیْنَ
یہاں تک کہ خدا نے خائف دشمنوں کو آپ سے دور کر دیا
وَنَصَرَ بِكَ الْخَاذِلِیْنَ
اور آپ کے ذریعے بھاگے ہوؤں کو مدد دی
وَیَوْمَ حُنَیْنٍ عَلٰی مَا نَطَقَ بِہِ التَّنْزِیْلُ:
اور حنین کا دن، جس کے بارے میں قرآن کہتا ہے
اِذْ ٲَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْكُمْ شَیْئًا
کہ جب تمہاری کثرت نے تمہیں نازاں کر دیا پس وہ تمہارے کسی کام نہ آئی
وَضَاقَتْ عَلَیْكُمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ
اور زمین تمہارے لئے تنگ ہو گئی جب وہ وسیع تھی
ثُمَّ وَلَّیْتُمْ مُدْبِرِیْنَ
پھر تم پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے
ثُمَّ ٲَنْزَلَ ﷲُ سَكِیْنَتَہٗ عَلٰی رَسُوْلِہٖ وَعَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ۔
تب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولؐ پر سکون قلب نازل کیا اور مومنوں پر بھی۔
وَالْمُؤْمِنُوْنَ ٲَنْتَ وَمَنْ یَلِیْكَ
ہاں آپ اور آپ کے پیروکار ہی تو مومن ہیں
وَعَمُّكَ الْعَبَّاسُ یُنَادِی الْمُنْھَزِمِیْنَ
اس وقت آپ کے چچا عباس بھاگنے والوں کو پکار رہے تھے
یَا ٲَصْحَابَ سُوْرَۃِ الْبَقَرَۃِ، یَا ٲَھْلَ بَیْعَۃِ الشَّجَرَۃِ
اے سورہ بقرہ کی تلاوت کرنے والو، اے بیعت شجرہ میں حصہ لینے والو
حَتَّی اسْتَجَابَ لَہٗ قَوْمٌ
یہاں تک کہ ایک گروہ نے ان کو لبیک کہا
قَدْ كَفَیْتَھُمُ الْمَؤُوْنَۃَ وَتَكَفَّلْتَ دُوْنَھُمُ الْمَعُوْنَۃَ
اس وقت آپ نے ان کے نان و نفقہ کا انتظام کیا
فَعَادُوْا اٰیِسِیْنَ مِنَ الْمَثُوْبَۃِ
پس وہ پلٹ آئے ثواب جہاد سے ناامیدی میں
رَاجِیْنَ وَعْدَ ﷲِ تَعَالٰی بِالتَّوْبَۃِ
خدا کے قبول توبہ کے وعدے کی آس میں
وَذٰلِكَ قَوْلُ ﷲِ جَلَّ ذِكْرُہٗ:
اور یہ بلند ذکر والے خدا کا فرمان ہے کہ
ثُمَّ یَتُوْبُ ﷲُ مِنْ بَعْدِ ذٰلِكَ عَلٰی مَنْ یَشَاءُ۔
پھر خدا جس کی چاہے توبہ قبول فرمائے
وَٲَنْتَ حَائِزٌ دَرَجَۃَ الصَّبْرِ، فَائِزٌ بِعَظِیْمِ الْاَجْرِ
اور آپ ہی ہیں جو صبر کے اونچے درجے پر ہیں، بہت بڑا اجر پانے والے ہیں
وَیَوْمَ خَیْبَرَ اِذْ ٲَظْھَرَ ﷲُ خَوَرَ الْمُنَافِقِیْنَ
اور خیبر کے دن، جب خدا نے منافقوں کی سستی ظاہر کی
وَقَطَعَ دَابِرَ الْكَافِرِیْنَ
اور آپ کے ذریعے کافروں کی جڑیں کاٹ دیں
وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ
اور حمد ہے خدا کے لئے جو جہانوں کا رب ہے
وَلَقَدْ كَانُوْا عَاھَدُوا ﷲَ مِنْ قَبْلُ
اور فرمان الہی ہے کہ اس سے پہلے انہوں نے خدا سے عہد کیا تھا
لَا یُوَلُّوْنَ الْاَدْبَارَ، وَكَانَ عَھْدُ ﷲِ مَسْؤُوْلًا۔
کہ دشمنوں سے پیٹھ نہ پھیریں گے، اور خدا سے کیے ہوئے عہد پر باز پرس ہو گی
مَوْلَایَ ٲَنْتَ الْحُجَّۃُ الْبَالِغَۃُ، وَالْمَحَجَّۃُ الْوَاضِحَۃُ
اے میرے مولا آپ ہی تو کامل حجت، حق کا واضح تر طریق
وَالنِّعْمَۃُ السَّابِغَۃُ، وَالْبُرْھَانُ الْمُنِیْرُ
خدا کی نعمتِ عامہ اور روشن تردلیل ہیں
فَھَنِیْئًا لَكَ بِمَا اٰتَاكَ ﷲُ مِنْ فَضْلٍ
پس آپ پر اللہ کا یہ فضل مبارک بہت بہت مبارک ہو
وَتَبًّا لِشَانِئِكَ ذِی الْجَھْلِ
آپ کے جاہل دشمن پر ہلاکت پڑے
شَھِدْتَ مَعَ النَّبِیِّ صَلَّی ﷲُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ جَمِیْعَ حُرُوْبِہٖ وَمَغَازِیْہِ
آپ حضرت رسولؐ کے ہمراہ سبھی جنگوں میں حاضر اور شامل ہوئے
تَحْمِلُ الرَّایَۃَ ٲَمَامَہٗ، وَتَضْرِبُ بِالسَّیْفِ قُدَّامَہٗ
ان کے حضور علمبردار لشکر رہے اور ان پرحملہ کرنے والوں پر تلوار چلاتے رہے
ثُمَّ لِحَزْمِكَ الْمَشْھُوْرِ، وَبَصِیْرَتِكَ فِی الْأُمُوْرِ
پھر آپ کی انتہائی احتیاط اور آپ کی معاملہ فہمی کے پیش نظر
ٲَمَّرَكَ فِی الْمَوَاطِنِ، وَلَمْ یَكُنْ عَلَیْكَ ٲَمِیْرٌ
وہ آپ کو امیر بناتے تھے، کسی کو آپ پر امیر نہیں بنایا
وَكَمْ مِنْ ٲَمْرٍ صَدَّكَ عَنْ اِمْضَاءِ عَزْمِكَ فِیْہِ التُّقٰی
کتنے ہی ایسے امور ہیں جن میں تقویٰ آپ کے لئے رکاوٹ بن گیا
وَاتَّبَعَ غَیْرُكَ فِیْ مِثْلِہِ الْھَوٰی
جب کہ آپ کے غیر نے ان میں خواہش کی پیروی کی
فَظَنَّ الْجَاھِلُوْنَ ٲَنَّكَ عَجَزْتَ عَمَّا اِلَیْہِ انْتَھٰی
پس جاہلوں نے خیال کیا آپ ان امور میں قاصر و عاجز ہیں
ضَلَّ وَﷲِ الظَّانُّ لِذٰلِكَ وَمَا اھْتَدٰی
قسم بخدا یہ خیال کرنے والا گمراہ ہوا اور راہ نہ پا سکا
وَلَقَدْ ٲَوْضَحْتَ مَا ٲَشْكَلَ مِنْ ذٰلِكَ
اور آپ نے ایسے شخص کی مشکل آسان کر دی
لِمَنْ تَوَہَّمَ وَامْتَرٰی بِقَوْلِكَ صَلَّی ﷲُ عَلَیْكَ:
جو وہم کرتا اور آپ کے قول پر شک کرتا تھا، خدا کی رحمت ہو آپ پر، [آپ نے فرمایا]
قَدْ یَرَی الْحُوَّلُ الْقُلَّبُ وَجْہَ الْحِیْلَۃِ
کبھی امور کو انجام دینے والا ان کے لئے عجیب سا طریقہ دیکھتا ہے
وَدُوْنَھَا حَاجِزٌ مِنْ تَقْوَی ﷲِ
جس میں تقویٰ رکاوٹ بن جاتا ہے
فَیَدَعُھَا رَٲْیَ الْعَیْنِ
لیکن اس کی پروا نہیں کرتا
وَیَنْتَھِزُ فُرْصَتَھَا مَنْ لَا حَرِیْجَۃَ لَہٗ فِی الدِّیْنِ۔
جو چاہے کر گزرتا ہے اور اپنے دین کی کچھ فکر نہیں کرتا۔
صَدَقْتَ وَﷲِ وَخَسِرَ الْمُبْطِلُوْنَ
آپ سچے اور اہل باطل گھاٹے میں ہیں
وَاِذْ مَاكَرَكَ النَّاكِثَانِ، فَقَالَا نُرِیْدُ الْعُمْرَۃَ
جب بیعت توڑنے والے دو شخصوں نے مکر کیا اور آپ سے کہا ہم عمرہ کرنا چاہتے ہیں
فَقُلْتَ لَھُمَا لَعَمْرُكُمَا مَا تُرِیْدَانِ الْعُمْرَۃَ
تو آپ نے ان سے کہا تمہاری زندگی کی قسم تم عمرہ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے
لٰكِنْ تُرِیْدَانِ الْغَدْرَۃَ
لیکن یہ کہ تم دھوکہ دینا چاہتے ہو
فَٲَخَذْتَ الْبَیْعَۃَ عَلَیْھِمَا
پس آپ نے بار دیگر ان سے بیعت لے لی
وَجَدَّدْتَ الْمِیْثَاقَ، فَجَدَّا فِی النِّفَاقِ
اور پھر سے عہد و پیمان باندھا مگر وہ دونوں نفاق کر رہے تھے
فَلَمَّا نَبَّھْتَھُمَا عَلٰی فِعْلِھِمَا
جب آپ نے ان کو اس فعل سے خبردار کیا
ٲَغْفَلَا وَعَادَا وَمَا انْتَفَعَا
تو بے پروا ہو کر چلے گئے اور کچھ فائدہ نہ پا سکے
وَكَانَ عَاقِبَۃُ ٲَمْرِھِمَا خُسْرًا
اور انجام کار وہ خسارے سے دوچار ہوئے
ثُمَّ تَلَاھُمَا ٲَھْلُ الشَّامِ
پھر شام والوں نے بھی انہی کی پیروی کی
فَسِرْتَ اِلَیْھِمْ بَعْدَ الْاِعْذَارِ
تو ان کا عذر و بہانہ سن کر آپ ان کی طرف روانہ ہوئے
وَھُمْ لَا یَدِیْنُوْنَ دِیْنَ الْحَقِّ
کیونکہ ان کا دین و حق سے کوئی تعلق نہ تھا
وَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ، ھَمَجٌ رُعَاعٌ ضَالُّوْنَ
اور نہ ہی قرآن کی تعلیم پر توجہ دیتے تھے اور ہر آواز کے پیچھے چلنے والے گمراہ تھے
وَبِالَّذِیْ ٲُنْزِلَ عَلٰی مُحَمَّدٍ فِیْكَ كَافِرُوْنَ
آپ کے بارے میں پیغمبر اکرمؐ پر جو آیات آئیں ان کا انکار کرتے تھے
وَلِاَھْلِ الْخِلَافِ عَلَیْكَ نَاصِرُوْنَ
اور آپ کے دشمنوں کی مدد و نصرت کرنے والے تھے
وَقَدْ ٲَمَرَ ﷲُ تَعَالٰی بِاتِّبَاعِكَ
جبکہ خدا نے آپ کی پیروی کا حکم دیا
وَنَدَبَ الْمُؤْمِنِیْنَ اِلٰی نَصْرِكَ
اور مومنوں کو آپ کی نصرت کی دعوت دی تھی
وَقَالَ عَزَّ وَجَلَّ: یَا ٲَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا
اور خدائے عزوجل نے فرمایا، کہ اے وہ لوگو! جو ایمان لائے ہو
اتَّقُوا ﷲَ وَكُوْنُوْا مَعَ الصَّادِقِیْنَ۔
خدا سے ڈرو اور حق سچ والوں کے ساتھ ہو جاؤ
مَوْلَایَ بِكَ ظَھَرَ الْحَقُّ، وَقَدْ نَبَذَہُ الْخَلْقُ
میرے مولا، آپ کے ذریعے حق آشکار ہوا جب کہ لوگ اسے چھوڑ چکے تھے
وَٲَوْضَحْتَ السُّنَنَ بَعْدَ الدُّرُوْسِ وَالطَّمْسِ
آپ نے پیغمبر کی سنتوں کو ظاہر کیا جب وہ بھلائی، مٹائی جا چکیں تھیں
فَلَكَ سَابِقَۃُ الْجِھَادِ عَلٰی تَصْدِیْقِ التَّنْزِیْلِ
پس تبلیغ قرآن کے لئے جہاد میں آپ کو سبقت حاصل ہے
وَلَكَ فَضِیْلَۃُ الْجِھَادِ عَلٰی تَحْقِیْقِ التَّٲْوِیْلِ
اور قرآن کی تاویل و تعین مفہوم کیلئے جہاد کی فضیلت بھی آپ ہی کے لئے ہے
وَعَدُوُّكَ عَدُوُّ ﷲِ جَاحِدٌ لِرَسُوْلِ ﷲِ
آپ کا دشمن، خدا کا دشمن، خدا کے رسولؐ کا انکار کرنے والا ہے
یَدْعُوْ بَاطِلًا، وَیَحْكُمُ جَائِرًا
باطل کی طرف بلانے والا، ظالمانہ فیصلہ کرنے والا،
وَیَتَٲَمَّرُ غَاصِبًا، وَیَدْعُوْ حِزْبَہٗ اِلَی النَّارِ
زبردستی حکومت لینے والا اور اپنے گروہ کو جہنم کی طرف بلانے والا ہے
وَعَمَّارٌ یُجَاھِدُ وَیُنَادِیْ بَیْنَ الصَّفَّیْنِ
لیکن عمار [یاسر] جہاد کرتے اور آواز دے رہے تھے دو لشکروں کے درمیان
الرَّوَاحَ الرَّوَاحَ اِلَی الْجَنَّۃِ
کہ چلو چلو جنت کی طرف چلو
وَلَمَّا اسْتَسْقٰی فَسُقِیَ اللَّبَنَ
اور جب انہوں نے پانی مانگا تو انہیں دودھ پلایا گیا
كَبَّرَ وَقَالَ قَالَ لِیْ رَسُوْلُ ﷲِ صَلَّی ﷲُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ:
تب تکبیر بلند کی اور کہا حضرت رسولؐ نے مجھ سے فرمایا تھا
اٰخِرُ شَرَابِكَ مِنَ الدُّنْیَا ضَیَاحٌ مِنْ لَبَنٍ
کہ دنیا میں تمہاری آخری خوراک دودھ کا پیالہ ہے
وَتَقْتُلُكَ الْفِیَۃُ الْبَاغِیَۃُ
اور تمہیں ایک باغی گروہ قتل کرے گا
فَاعْتَرَضَہٗ ٲَبُو الْعَادِیَۃِ الْفَزَارِیُّ فَقَتَلَہٗ
پس ابو العادیہ فزاری آپ کے مقابل آیا اور اس نے آپ کو شہید کر دیا
فَعَلٰی ٲَبِی الْعَادِیَۃِ لَعْنَۃُ ﷲِ
پس ابو العادیہ پر خدا کی لعنت برستی رہے
وَلَعْنَۃُ مَلَائِكَتِہٖ وَرُسُلِہٖ ٲَجْمَعِیْنَ
اور اس کے فرشتوں کی اور اس کے رسولوں کی
وَعَلٰی مَنْ سَلَّ سَیْفَہٗ عَلَیْكَ
اور اس پر جس نے آپ پر تلوار کھینچی
وَسَلَلْتَ سَیْفَكَ عَلَیْہِ یَا ٲَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ
اور اس پر بھی جس پر آپ نے تلوار کھینچی اے مومنوں کے امیر
مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ وَالْمُنَافِقِیْنَ اِلٰی یَوْمِ الدِّیْنِ
جو کہ مشرکوں میں سے اور منافقوں میں سے ہیں، روز قیامت تک لعنت ہو
وَعَلٰی مَنْ رَضِیَ بِمَا سَائَكَ
اور اس پر لعنت ہو جو آپ کو تکلیف پہنچانے پر راضی ہوا
وَلَمْ یَكْرَھْہُ وَٲَغْمَضَ عَیْنَہٗ
اور ناخوش نہ ہوا آنکھیں بند کر لیں
وَلَمْ یُنْكِرْ ٲَوْ ٲَعَانَ عَلَیْكَ بِیَدٍ ٲَوْ لِسَانٍ
اور نفرت نہیں کی یا آپ کے خلاف ہاتھ یا زبان سے معاون بنا
ٲَوْ قَعَدَ عَنْ نَصْرِكَ، ٲَوْ خَذَلَ عَنِ الْجِھَادِ مَعَكَ
آپ کی نصرت سے دست بردار یا جہاد میں آپ کو چھوڑ کر چلا گیا
ٲَوْ غَمَطَ فَضْلَكَ وَجَحَدَ حَقَّكَ
یا آپ کی فضیلت کو چھپایا اور آپ کے حق کا منکر ہوا
ٲَوْ عَدَلَ بِكَ مَنْ جَعَلَكَ ﷲُ ٲَوْلٰی بِہٖ مِنْ نَفْسِہٖ
یا اسے آپ کے برابر لایا کہ جس پر خدا نے آپ کو اس کے اپنے آپ سے زیادہ اختیار دیا
وَصَلَوَاتُ ﷲِ عَلَیْكَ وَرَحْمَۃُ ﷲِ وَبَرَكَاتُہٗ وَسَلَامُہٗ وَتَحِیَّاتُہٗ
اور درود ہو خدا کا آپ پر، خدا کی رحمت ہو اور اس کی برکتیں ہوں، اس کا سلام اور اس کی عنایت ہو
وَعَلَی الْاَئِمَّۃِ مِنْ اٰلِكَ الطَّاھِرِیْنَ، اِنَّہٗ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ۔
اور آپ کی پاکیزہ اولاد میں سے ہونے والے ائمہؑ پر بھی، بے شک وہ حمد والا، شان والا ہے
وَالْاَمْرُ الْاَعْجَبُ، وَالْخَطْبُ الْاَفْظَعُ بَعْدَ جَحْدِكَ حَقَّكَ
اور آپ کے حق کا انکار کیے جانے کے بعد سب سے عجیب اور بڑی مصیبت یہ ہے
غَصْبُ الصِّدِیْقَۃِ الطَّاھِرَۃِ الزَّھْرَاءِ سَیِّدَۃِ النِّسَاءِ فَدَكًا
کہ صدیقۂ طاہرہ زہراؑ کا حق غصب کیا گیا اور فدک چھین لیا گیا
وَرَدُّ شَھَادَتِكَ وَشَھَادَۃِ السَّیِّدَیْنِ
اور آپ کی اور دو سرداروں کی شہادتیں رد کی گئیں
سُلَالَتِكَ وَعِتْرَۃِ الْمُصْطَفٰی صَلَّی ﷲُ عَلَیْكُمْ
جو آپ کی اولاد میں سے اور عترت پیغمبرؐ میں سے ہیں، خدا کی رحمت آپ سب پر
وَقَدْ ٲَعْلَی ﷲُ تَعَالٰی عَلَی الْأُمَّۃِ دَرَجَتَكُمْ
کیونکہ خدا نے آپ کو امت پر بلندئ درجات دی
وَرَفَعَ مَنْزِلَتَكُمْ، وَٲَبَانَ فَضْلَكُمْ
آپ کی شان بلند کی، آپ کی فضیلت ظاہر فرمائی
وَشَرَّفَكُمْ عَلَی الْعَالَمِیْنَ
اور آپ کو سب جہانوں پر بڑائی دی
فَٲَذْھَبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ وَطَہَّرَكُمْ تَطْھِیْرًا
پس آپ سب سے ہر برائی کو دور رکھا اور آپ کو پاک رکھا جس طرح پاک رکھنے کا حق ہے
قَالَ ﷲُ عَزَّ وَجَلَّ: اِنَّ الْاِنْسَانَ خُلِقَ ھَلُوْعًا
خدائے عز و جل نے فرمایا، انسان کو بے صبر پیدا کیا گیا
اِذَا مَسَّہُ الشَّرُّ جَزُوْعًا
کہ جب اسے تکلیف پہنچے تو گھبرا جاتا ہے
وَاِذَا مَسَّہُ الْخَیْرُ مَنُوْعًا، اِلَّا الْمُصَلِّیْنَ
اور جب بھلائی ملے تو روک لیتا ہے، سوائے نماز گزاروں کے
فَاسْتَثْنَی ﷲُ تَعَالٰی نَبِیَّہُ الْمُصْطَفٰی
پس خدا نے اپنے نبی محمدؐ مصطفی کو الگ قرار دیا
وَٲَنْتَ یَا سَیِّدَ الْاَوْصِیَاءِ مِنْ جَمِیْعِ الْخَلْقِ
اور اے اوصیاء کے سردار آپ کو، ساری مخلوق سے الگ۔
فَمَا ٲَعْمَہَ مَنْ ظَلَمَكَ عَنِ الْحَقِّ
پس کس قدر اندھا ہے وہ جو آپ کے حق کو نہیں پہچانتا
ثُمَّ ٲَفْرَضُوْكَ سَھْمَ ذَوِی الْقُرْبٰی مَكْرًا
پھر یہ کہ ان لوگوں نے مکر کے ساتھ نبیؐ کے قرابت داروں کا حق تسلیم کیا
وَٲَحَادُوْہُ عَنْ ٲَھْلِہٖ جَوْرًا
اور ظلم کے ساتھ ان حقداروں کو محروم کیا
فَلَمَّا اٰلَ الْاَمْرُ اِلَیْكَ ٲَجْرَیْتَھُمْ عَلٰی مَا ٲَجْرَیَا
پھر جب معاملہ آپ کے ہاتھ میں آیا تو آپ نے ان امور کو جوں کا توں رہنے دیا
رَغْبَۃً عَنْھُمَا بِمَا عِنْدَ ﷲِ لَكَ
اس ثواب کی خاطر جو خدا کے ہاں آپ کیلئے ہے
فَٲَشْبَھَتْ مِحْنَتُكَ بِھِمَا مِحَنَ الْاَ نْبِیَاءِ عَلَیْھِمُ السَّلَامُ
پس ان دو باتوں میں آپ کی مظلومی انبیاء کی مظلومی جیسی ہے
عِنْدَ الْوَحْدَۃِ وَعَدَمِ الْاَ نْصَارِ
یعنی آپ کی تنہائی اور مددگاروں سے محرومی
وَٲَشْبَھْتَ فِی الْبَیَاتِ عَلَی الْفِرَاشِ الذَّبِیْحَ
آپ کا شب ہجرت بستر رسولؐ پر سونا مشابہ ہے ذبیحؑ کی قربانی کے
اِذْ ٲَجَبْتَ كَمَا ٲَجَابَ، وَٲَطَعْتَ كَمَا ٲَطَاعَ
جب آپ نے سونا قبول کیا اور حکم کی اطاعت کی جیسا کہ
اِسْمَاعِیْلُ صَابِرًا مُحْتَسِبًا
اسماعیلؑ نے خوشدلی اور صبر سے اطاعت کی
اِذْ قَالَ لَہٗ یَا بُنَیَّ اِنِّیْ ٲَرٰی فِی الْمَنَامِ ٲَنّٰی ٲَذْبَحُكَ
جب باپ نے ان سے کہا اے میرے بیٹے بے شک میں نے خواب میں دیکھا کہ میں تجھے ذبح کر رہا ہوں
فَانْظُرْ مَاذَا تَرٰی، قَالَ یَا ٲَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ
پس دیکھو تمہاری کیا رائے ہے؟ انہوں نے کہا اے بابا جو حکم ملا اس کی تعمیل کریں
سَتَجِدُنِیْ اِنْ شَاءَ ﷲُ مِنَ الصَّابِرِیْنَ
خدا نے چاہا تو آپ مجھے صابر ہی پائیں گے
وَكَذٰلِكَ ٲَنْتَ لَمَّا ٲَبَاتَكَ النَّبِیُّ صَلَّی ﷲُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ
اور اسی طرح جب نبیؐ نے آپ کو اپنے بستر پر سلایا
وَٲَمَرَكَ ٲَنْ تَضْجَعَ فِیْ مَرْقَدِہٖ
اور حکم دیا کہ آپ ان کے بستر پر سو جائیں
وَاقِیًا لَہٗ بِنَفْسِكَ
اور اپنی جان کی قربانی سے آنحضرتؐ کی جان بچائیں
ٲَسْرَعْتَ اِلٰی اِجَابَتِہٖ مُطِیْعًا
تو آپ فوراً اطاعت کرتے ہوئے اس پر آمادہ ہو گئے
وَلِنَفْسِكَ عَلَی الْقَتْلِ مُوَطِّنًا
اور اپنے آپ کو قتل ہونے کیلئے پیش کر دیا
فَشَكَرَ ﷲُ تَعَالٰی طَاعَتَكَ
پس خدا نے آپ کی اس فرمانبرداری کی قدر فرمائی
وَٲَبَانَ عَنْ جَمِیْلِ فِعْلِكَ بِقَوْلِہٖ جَلَّ ذِكْرُہٗ:
اور آپ کے کارنامے کو ظاہر کیا اپنے اس واضح قول کے ذریعے
وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَشْرِیْ نَفْسَہُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاۃِ ﷲِ۔
کہ لوگوں میں کچھ ایسے ہیں جو خدا کی رضا حاصل کرنے کیلئے اپنی جانیں بیچ دیتے ہیں۔
ثُمَّ مِحْنَتُكَ یَوْمَ صِفِّیْنَ
پھر جنگ صفین میں آپ کی سخت مصیبت
وَقَدْ رُفِعَتِ الْمَصَاحِفُ حِیْلَۃً وَمَكْرًا
کہ جب انہوں نے فریب کاری کے ساتھ قرآن نیزوں پر بلند کر دیئے
فَٲَعْرَضَ الشَّكُّ، وَعُزِفَ الْحَقُّ، وَاتُّبِعَ الظَّنُّ
تو لوگ شک و شبہ میں پڑ گئے، حق کو چھوڑ دیا گیا اور شک پر عمل ہونے لگا
ٲَشْبَھَتْ مِحْنَۃَ ھَارُوْنَ
آپ کی یہ مصیبت ہارونؑ کی مشکل جیسی تھی
اِذْ ٲَمَّرَہٗ مُوْسٰی عَلٰی قَوْمِہٖ فَتَفَرَّقُوْا عَنْہُ
جب کہ موسٰیؑ نے ان کو اپنی قوم پر امیر مقرر کیا تو لوگ انہیں چھوڑ گئے
وَھَارُوْنُ یُنَادِیْ بِھِمْ وَیَقُوْلُ یَا قَوْمِ اِنَّمَا فُتِنْتُمْ بِہٖ
تب ہارونؑ انہیں آوازیں دیتے اور کہتے تھے کہ اے قوم یقیناً تم بچھڑے کے ذریعے آزمائے گئے ہو
وَاِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحْمٰنُ، فَاتَّبِعُوْنِیْ وَٲَطِیْعُوْا ٲَمْرِیْ۔
بے شک رحمان ہی تمہارا رب ہے، پس تم میری پیروی کرو اور میرا حکم مانو
قَالُوْا لَنْ نَبْرَحَ عَلَیْہِ عَاكِفِیْنَ
انہوں نے کہا ہم تو اس کے ارد گرد عبادت کرتے رہیں گے
حَتّٰی یَرْجِعَ اِلَیْنَا مُوْسٰی۔
جب تک موسٰیؑ ہمارے پاس واپس نہیں آتے
وَكَذٰلِكَ ٲَنْتَ لَمَّا رُفِعَتِ الْمَصَاحِفُ
اسی طرح جب قرآن نیزوں پر بلند کیے گئے تو آپ بھی
قُلْتَ یَا قَوْمِ اِنَّمَا فُتِنْتُمْ بِھَا وَخُدِعْتُمْ
ان لوگوں سے فرما رہے تھے کہ اے لوگو یقیناً اس میں تم آزمائے گئے ہو اور فریب دیے گئے ہو
فَعَصَوْك وَخَالَفُوْا عَلیْكَ
پس انہوں نے نافرمانی کی اور آپ کے خلاف ہو گئے
وَاسْتَدْعَوْا نَصْبَ الْحَكَمَیْنِ فَٲَبَیْتَ عَلَیْھِمْ
اور آپ کو حکمین کے تقررکی خواہش کی تو آپ نے اس سے انکار کیا
وَتَبَرَّٲْتَ اِلَی ﷲِ مِنْ فِعْلِھِمْ، وَفَوَّضْتَہٗ اِلَیْھِمْ
ان کے اس فعل سے خدا کی جانب برأت ظاہر کی اور معاملہ ان پر چھوڑ دیا
فَلَمَّا ٲَسْفَرَ الْحَقُّ، وَسَفِہَ الْمُنْكَرُ
پھر جب حق ظاہر ہوا، منکروں کی بے وقوفی عیاں ہوئی
وَاعْتَرَفُوْا بِالزَّلَلِ وَالْجَوْرِ عَنِ الْقَصْدِ
اور انہوں نے لغزش کا اعتراف کیا اور نافرمانی کی
اخْتَلَفُوْا مِنْ بَعْدِہٖ وَٲَلْزَمُوْكَ عَلٰی سَفَہِ التَّحْكِیْمِ
اور بعد میں اپنی اس بات سے پھر گئے اور اس پنچایت ﴿تحکیم﴾کی غلطی کو آپ کے ذمے لگانے لگے
الَّذِیْ ٲَبَیْتَہٗ وَٲَحَبُّوْہُ
کہ جس کا آپ نے انکار کیا اور انہوں نے اس میں رغبت کی
وَحَظَرْتَہٗ وَٲَبَاحُوْا ذَنْبَھُمُ الَّذِی اقْتَرَفُوْہُ
آپ نے منع کیا اور انہوں نے جو گناہ کیا تھا اس کو درست سمجھنے لگے۔
وَٲَنْتَ عَلٰی نَھْجِ بَصِیْرَۃٍ وَھُدًى
آپ عقل وہدایت کی راہ پر تھے
وَھُمْ عَلٰی سُنَنِ ضَلَالَۃٍ وَعَمًى
اور وہ لوگ گمراہی اور اندھے پن کے طریقے اختیار کیے ہوئے تھے
فَمَا زَالُوْا عَلَی النِّفَاقِ مُصِرِّیْنَ
پس انہوں نے نفاق کا دامن پکڑا
وَفِی الْغَیِّ مُتَرَدِّدِیْنَ
اپنی گمراہی پر اصرار کرتے رہے جب کہ شبہ میں گرفتار تھے
حَتّٰی ٲَذَاقَھُمُ ﷲُ وَبَالَ ٲَمْرِھِمْ
یہاں تک کہ خدا نے انہیں ان کے کیے کا مزہ چکھایا
فَٲَمَاتَ بِسَیْفِكَ مَنْ عَانَدَكَ فَشَقِیَ وَھَوٰی
آپ کے مخالفوں کو آپ کی تلوار سے قتل کرایا اور وہ بد بختی کے ساتھ تباہ ہوئے
وَٲَحْیَا بِحُجَّتِكَ مَنْ سَعَدَ فَھُدِیَ
اور جنہوں نے آپ کو حجت مانا وہ خوش بخت اور خدا کی ہدایت حاصل کرتے زندہ ہوئے
صَلَوَاتُ ﷲِ عَلَیْكَ غَادِیَۃً
رحمت ہو آپ پر ہر صبح وشام
وَرَائِحَۃً وَعَاكِفَۃً وَذَاھِبَۃً
خواہ آپ کسی جگہ ٹھہرے ہوں یا چل رہے ہوں
فَمَا یُحِیْطُ الْمَادِحُ وَصْفَكَ
کیونکہ مدح کرنے والا آپ کے اوصاف گن نہیں سکتا
وَلَا یُحْبِطُ الطَّاعِنُ فَضْلَكَ
اور طعن کرنے والا آپ کی فضیلت کو چھپا نہیں سکتا
ٲَنْتَ ٲَحْسَنُ الْخَلْقِ عِبَادَۃً، وَٲَخْلَصُھُمْ زَھَادَۃً
آپ عبادت میں ساری مخلوق سے بہتر، زہد میں سب سے خالص ہیں
وَٲَذَبُّھُمْ عَنِ الدِّیْن
اور دین کی حفاظت میں سب سے آگے ہیں
ٲَقَمْتَ حُدُوْدَ ﷲِ بِجُھْدِكَ
آپ نے حدود الٰہی کے قیام میں بڑی کوشش کی
وَفَلَلْتَ عَسَاكِرَ الْمَارِقِیْنَ بِسَیْفِكَ
آپ نے اپنی تلوار سے بے دین ہونے والوں کے لشکر ناکارہ بنا دئیے
تُخْمِدُ لَھَبَ الْحُرُوْبِ بِبَنَانِكَ
آپ نے انگلی کے اشارے سے جنگ کے شعلے ٹھنڈے کر دیئے
وَتَھْتِكُ سُتُوْرَ الشُّبَہِ بِبَیَانِكَ
اپنے بیان سے شک کے پردوں کو چاک کر ڈالا
وَتَكْشِفُ لَبْسَ الْبَاطِلِ عَنْ صَرِیْحِ الْحَقِّ
اور آپ نے حق کے چہرے سے باطل کے حجاب نوچ لئے
لَا تَٲْخُذُكَ فِی ﷲِ لَوْمَۃُ لَائِمٍ
کیونکہ خدا کے معاملے میں آپ کو ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا نہیں
وَفِیْ مَدْحِ ﷲِ تَعَالٰی لَكَ غِنًى
اور جب خدا ہی آپ کی تعریف کر رہا ہے
عَنْ مَدْحِ الْمَادِحِیْنَ وَتَقْرِیْظِ الْوَاصِفِیْنَ
تو مدح کرنے والوں کی مدح اور تعریف کرنے والوں کی تعریف کا کیا ہے
قَالَ ﷲُ تَعَالٰی: مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ
خدائے تعالی کا فرمان ہے، کہ مومنوں میں ایسے مرد بھی ہیں
صَدَقُوْا مَا عَاھَدُوا ﷲَ عَلَیْہِ
جنہوں نے خدا سے کیا ہوا عہد سچ کر دکھایا
فَمِنْھُمْ مَنْ قَضٰی نَحْبَہٗ
پس ان میں سے کچھ دنیا سے چلے گئے
وَمِنْھُمْ مَنْ یَنْتَظِرُ، وَمَا بَدَّلُوْا تَبْدِیْلًا۔
اور ان میں سے بعض انتظار میں ہیں، اور ان میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
وَلَمَّا رَٲَیْتَ ٲَنْ قَتَلْتَ النَّاكِثِیْنَ وَالْقَاسِطِیْنَ وَالْمَارِقِیْنَ
اور جب آپ نے دیکھا کہ عہد توڑنے والے، تفرقہ ڈالنے والے اور بے دین آپ سے لڑتے ہیں
وَصَدَقَكَ رَسُوْلُ ﷲِ صَلَّی ﷲُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَعْدَہٗ
اور حضرت رسولؐ اللہ کا آپ کو دیا ہوا وعدہ سچ نکلا
فَٲَوْفَیْتَ بِعَھْدِہٖ
تو آپ نے وہ عہد پورا کر دیا
قُلْتَ ٲَمَا اٰنَ ٲَنْ تُخْضَبَ ھٰذِہٖ مِنْ ھٰذِہٖ
تب آپ نے کہا کہ وہ وقت کیا نہیں آیا ہے کہ پیشانی کے خون سے داڑھی پر خصاب ہو
ٲَمْ مَتٰی یُبْعَثُ ٲَشْقَاھَا
تو وہ بد بخت کب اٹھے گا
وَاثِقًا بِٲَنَّكَ عَلٰی بَیِّنَۃٍ مِنْ رَبِّكَ
یہ اس لیے کہ اپنے رب کی واضح دلیل کا آپ کو یقین تھا
وَبَصِیْرَۃٍ مِنْ ٲَمْرِكَ
اور اپنے معاملے میں کامل بصیرت حاصل تھی
قَادِمٌ عَلَی ﷲِ مُسْتَبْشِرٌ بِبَیْعِكَ الَّذِیْ بَایَعْتَہٗ بِہٖ
آپ بارگاہ الہی میں جان کی تجارت پر خوش ہو کر گئے جو تجارت اس ذات خدا سے کی تھی
وَذٰلِكَ ھُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ
اور یہی وہ بڑی کامیابی ہے
اَللّٰھُمَّ الْعَنْ قَتَلَۃَ ٲَنْبِیَائِكَ وَٲَوْصِیَاءِ ٲَنْبِیَائِكَ
اے اللہ! لعنت کر اپنے نبیوں کے قاتلوں اور ان کے اوصیاء کے قاتلوں پر
بِجَمِیْعِ لَعَنَاتِكَ، وَٲَصْلِھِمْ حَرَّ نَارِكَ
مکمل لعنت، اور ان کو آتش جنہم میں جھونک دے
وَالْعَنْ مَنْ غَصَبَ وَلِیَّكَ حَقَّہٗ، وَٲَنْكَرَ عَھْدَہٗ
اور لعنت کر ان پر جنہوں نے تیرے ولی کا حق چھینا، ان کی بیعت کا انکار کیا
وَجَحَدَہٗ بَعْدَ الْیَقِیْنِ وَالْاِقْرَارِ بِالْوِلَایَۃِ لَہٗ
اور ان کے مخالف ہو گئے ان کی ولایت کا یقینی اقرار کرنے کے بعد
یَوْمَ ٲَكْمَلْتَ لَہُ الدِّیْنَ
دین کے کامل ہونے کے دن۔
اَللّٰھُمَّ الْعَنْ قَتَلَۃَ ٲَمِیْرِ الْمُؤْمِنِیْنَ
اے اللہ! لعنت کر امیر المؤمنینؑ کے قاتلوں پر
وَمَنْ ظَلَمَہٗ وَٲَشْیَاعَھُمْ وَٲَنْصَارَھُمْ۔
حضرت پر ظلم کرنے والے پر، ان ظالموں کے پیروکاروں اور مددگاروں پر
اَللّٰھُمَّ الْعَنْ ظَالِمِی الْحُسَیْنِ وَقَاتِلِیْہِ
اے اللہ! لعنت کر امام حسینؑ پر ظلم کرنے والوں پر، آپ کے قاتلوں پر
وَالْمُتَابِعِیْنَ عَدُوَّہٗ وَنَاصِرِیْہِ
آپ کے دشمنوں کے پیروکاروں اور مددگاروں پر
وَالرَّاضِیْنَ بِقَتْلِہٖ وَخَاذِلِیْہِ لَعْنًا وَبِیْلًا۔
آپ کے قتل پر خوش ہونے والوں اور آپ کو چھوڑ جانے والوں پر لعنت اور انہیں عذاب دے
اَللّٰھُمَّ الْعَنْ ٲَوَّلَ ظَالِمٍ
اے اللہ! لعنت اس پہلے ظالم پر
ظَلَمَ اٰلَ مُحَمَّدٍ وَمَانِعِیْھِمْ حُقُوْقَھُمْ۔
جس نے آل محمدؐ پر ظلم کیا اور ان کے حقوق کو روک لیا
اَللّٰھُمَّ خُصَّ ٲَوَّلَ ظَالِمٍ وَغَاصِبٍ لِاٰلِ مُحَمَّدٍ بِاللَّعْنِ
اے اللہ! آل محمدؐ پر ظلم کرنے والے ان کا حق غصب کرنے والے پہلے ظالم سے مخصوص اظہار بیزاری کر
وَكُلَّ مُسْتَنٍّ بِمَا سَنَّ اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔
اور اس کے طریقے پر چلنے والوں سے تاقیامت اظہار بیزاری کرتا رہ
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ خَاتَمِ النَّبِیِّیْنَ
اے معبود! رحمت فرما نبیوں کے خاتم حضرت محمدؐ پر
وَعَلٰی عَلِیٍّ سَیِّدِ الْوَصِیِّیْنَ وَاٰلِہٖ الطَّاھِرِیْنَ
اور رحمت کر اوصیاء کے سردار علیؑ پر اور ان کی پاک آلؑ پر
وَاجْعَلْنَا بِھِمْ مُتَمَسِّكِیْنَ وَبِوِلَایَتِھِمْ مِنَ الْفَائِزِیْنَ الْاٰمِنِیْنَ
اور قرار دے ہمیں ان سے تعلق رکھنے اور ان کی ولایت کو ماننے والوں [اور کامیاب افراد] میں
الَّذِیْنَ لَا خَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلَا ھُمْ یَحْزَنُوْنَ۔
کہ جن کو نہ کوئی خوف ہے نہ ان کو کچھ غم واندیشہ ہے۔
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی وَلِیِّكَ وَٲَخِیْ نَبِیِّكَ
اے معبود! رحمت نازل فرما اپنے ولی پر، جو تیرے نبیؐ کے برادر،
وَوَزِیْرِہٖ وَحَبِیْبِہٖ وَخَلِیْلِہٖ
ان کے وزیر، ان کے حبیب، ان کے خلیل ہیں
وَمَوْضِعِ سِرِّہٖ، وَخِیَرَتِہٖ مِنْ ٲُسْرَتِہٖ
اور ان کے راز دار ہیں، وہ ان کے خاندان میں سے بہترین شخص
وَوَصِیِّہٖ وَصَفْوَتِہٖ وَخَالِصَتِہٖ وَٲَمِیْنِہٖ
ان کے وصی، ان کے چنے ہوئے، ان کے خاص وخالص، ان کے امانتدار
وَوَلِیِّہٖ وَٲَشْرَفِ عِتْرَتِہِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِہٖ
ان کے ولی اور ان کی عترت میں بلند تر ہیں کہ وہ نبی اکرمؐ پر ایمان لائے
وَٲَبِیْ ذُرِّیَّتِہٖ، وَبَابِ حِكْمَتِہٖ
اور ان کی ذریت کے باپ ہیں، وہ ان کی حکمت کا دروازہ،
وَالنَّاطِقِ بِحُجَّتِہٖ، وَالدَّاعِیْ اِلٰی شَرِیْعَتِہٖ
ان کی حجت کے بیان کرنے والے، ان کی شریعت کی طرف بلانے والے،
وَالْمَاضِیْ عَلٰی سُنَّتِہٖ، وَخَلِیْفَتِہٖ عَلٰی ٲُمَّتِہٖ
ان کی سنت پر عمل کرنے والے، ان کی امت میں ان کے جانشین،
سَیِّدِ الْمُسْلِمِیْنَ، وَٲَمِیْرِ الْمُوَْمِنِیْنَ
مسلمانوں کے سردار اور مومنوں کے امیر ہیں
وَقَائِدِ الْغُرِّ الْمُحَجَّلِیْنَ
وہ چمکتے چہروں والوں کے پیشرو ہیں
ٲَفْضَلَ مَا صَلَّیْتَ عَلٰی ٲَحَدٍ مِنْ خَلْقِكَ
ان پر وہ بہترین رحمت فرما کہ جو تو نے اپنی مخلوق میں سے کسی پر کی ہو
وَٲَصْفِیَائِكَ وَٲَوْصِیَاءِ ٲَنْبِیَائِكَ۔
اور اپنے برگزیدہ و منتخب بندوں میں سے اور اپنے نبیوں کے اوصیاء میں کسی پر کی ہو
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ ٲَشْھَدُ ٲَنَّہٗ قَدْ بَلَّغَ
اے اللہ میں گواہی دیتا ہوں کہ انہوں نے وہ احکام لوگوں تک پہنچائے
عَنْ نَبِیِّكَ صَلَّی ﷲُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ مَا حُمِّلَ
جو تیرے نبیؐ سے حاصل کیے
وَرَعٰی مَا اسْتُحْفِظَ، وَحَفِظَ مَا اسْتُوْدِعَ
وہ یاد رکھا جو یاد رکھناچاہیے تھا، جو کچھ ان کے سپرد ہوا اس کی نگہداری کی
وَحَلَّلَ حَلَالَكَ، وَحَرَّمَ حَرَامَكَ
تیرے حلال کو حلال اور تیرے حرام کو حرام قرار دیا
وَٲَقَامَ ٲَحْكَامَكَ، وَدَعَا اِلٰی سَبِیْلِكَ
اور تیرے احکام جاری کیے، تیری راہ کی طرف بلاتے رہے
وَوَالٰی ٲَوْلِیَائَكَ، وَعَادٰی ٲَعْدَائَكَ
تیرے دوستوں سے محبت رکھی، اور تیرے دشمنوں کے دشمن رہے
وَجَاھَدَ النَّاكِثِیْنَ عَنْ سَبِیْلِكَ
انہوں نے جہاد کیا تیری بیعت توڑنے والوں کے ساتھ
وَالْقَاسِطِیْنَ وَالْمَارِقِیْنَ عَنْ ٲَمْرِكَ
تفرقہ ڈالنے والوں اور تیرے حکم کو نہ سمجھنے والوں کے ساتھ
صَابِرًا مُحْتَسِبًا، مُقْبِلًا غَیْرَ مُدْبِرٍ
صبر اور خیر خواہی سے جہاد کیا کہ بڑھتے تو پیچھے نہ ہٹتے تھے
لَا تَٲْخُذُہٗ فِی ﷲِ لَوْمَۃُ لَائِمٍ
خدا کے معاملے میں وہ کسی کی ملامت کی پروا نہیں کرتے تھے
حَتّٰی بَلَغَ فِیْ ذٰلِكَ الرِّضَا
حتیٰ کہ اسی عمل میں تیری رضا تک پہنچے
وَسَلَّمَ اِلَیْكَ الْقَضَاءَ
اور تیرے فیصلے کو قبول کر لیا
وَعَبَدَكَ مُخْلِصًا، وَنَصَحَ لَكَ مُجْتَھِدًا
انہوں نے تیری خاص عبادت کی اور تیری خاطر نصیحت کرتے رہے
حَتّٰی ٲَتَاہُ الْیَقِیْنُ
حتیٰ کہ ان کی شہادت واقع ہوئی
فَقَبَضْتَہٗ اِلَیْكَ شَھِیْدًا، سَعِیْدًا، وَلِیًّا
تو نے ان کی جان قبض کر لی اور وہ شہید، نیک بخت، ولی،
تَقِیًّا، رَضِیًّا، زَكِیًّا، ھَادِیًا، مَھْدِیًّا۔
پرہیزگار، پسندیدہ، پاکباز، رہبر و رہنما اور ہدایت یافتہ تھے۔
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَعَلَیْہِ
اے اللہ رحمت فرما حضرت محمدؐ پر اور ان ﴿علیؑ ﴾ پر
ٲَفْضَلَ مَا صَلَّیْتَ عَلٰی ٲَحَدٍ مِنْ ٲَنْبِیَائِكَ وَٲَصْفِیَائِكَ
وہ بہترین رحمت جو تو نے اپنے نبیوں اور اپنے منتخب بندوں میں سے کسی پر کی ہو
یَا رَبَّ الْعَالَمِیْنَ۔
اے جہانوں کے پروردگار۔
Text source: Mafatih al-Jinan Urdu — duas.co. Please consult a qualified scholar for religious guidance.